برلن(عرب میڈیا، بین الاقوامی خبر رساں ادارے)جرمنی کے وزیر دفاع نے آبنائے ہرمز کی مبینہ دوبارہ بندش پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ جرمنی یا یورپ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی پالیسیوں اور صدر ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یورپ اس راستے کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا تعطل گزر توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
جرمن وزیر دفاع کے مطابق اس آبی گزرگاہ کا کھلا رہنا نہ صرف یورپ بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی ناگزیر ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ اقتصادی دباؤ اور سپلائی چین کے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ذمہ داری کا تعین ضروری ہے اور ان کے مطابق موجودہ بحران کی بنیادی وجہ امریکی قیادت کے فیصلے ہیں۔سفارتی حلقوں میں اس بیان کو ایک سخت سیاسی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صورتحال پر عالمی سطح پر ردعمل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

