نیتن یاہو پر بننے والی متنازع دستاویزی فلم ’’دی بی بی فائلز‘‘ نے نئی بحث چھیڑ دی

نیویارک / ٹورنٹو / یروشلم( ایسوسی ایٹڈ پریس، ٹائم، دی گارجین، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس)اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی، رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے مقدمات پر مبنی متنازع امریکی دستاویزی فلم ’’دی بی بی فائلز‘‘ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فلم میں اسرائیلی پولیس کی تفتیشی ویڈیوز شامل ہیں جن میں نیتن یاہو، ان کی اہلیہ، اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

سن 2024 میں ریلیز ہونے والی اس دستاویزی فلم کی ہدایت کاری الیکسس بلوم نے کی جبکہ معروف فلم ساز الیکس گبنی اس کے پروڈیوسر ہیں۔ فلم میں 2016 سے 2018 کے دوران ریکارڈ کی گئی اسرائیلی پولیس کی تفتیشی ویڈیوز دکھائی گئی ہیں، جن میں نیتن یاہو مختلف الزامات کی تردید کرتے اور بعض مواقع پر برہمی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

فلم میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کیخلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات اور ان کے سیاسی فیصلوں کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ دستاویزی فلم کے مطابق اقتدار برقرار رکھنے اور قانونی دباؤ سے بچنے کی کوششوں نے اسرائیلی سیاست اور علاقائی تنازعات پر بھی اثر ڈالا۔ تاہم نیتن یاہو اور ان کے حامی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہیں۔

اس دستاویزی فلم کی نمائش کو روکنے کیلئے نیتن یاہو کے وکلا نے اسرائیلی عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت نے فلم کی نمائش پر پابندی لگانے کی درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں ان کے قانونی نمائندوں نے لیک ہونیوالی ویڈیوز کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قوانین کے تحت فوجداری مقدمات سے متعلق ویڈیو یا آڈیو شواہد کی اشاعت پر پابندی ہے، جس کے باعث فلم کی باضابطہ نمائش اسرائیل میں ممکن نہیں۔ اس کے باوجود یہ دستاویزی فلم مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر دستیاب رہی اور غیر رسمی ذرائع سے اسرائیل کے اندر بھی وسیع پیمانے پر دیکھی گئی۔

فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز نیتن یاہو کی شخصیت کا ایک ایسا رخ سامنے لاتی ہیں جو عوامی اجتماعات اور سرکاری بیانات میں کم ہی دکھائی دیتا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ دستاویزی فلم اسرائیل کی حالیہ سیاسی تاریخ اور اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سرگرمیوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔