اوٹاوا(سی بی سی نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق نئی قومی حکمتِ عملی کے مسودے میں ملک بھر میں اے آئی کے استعمال کو بڑھانے، کاروباری اداروں کو اپنانے پر آمادہ کرنے اور شہریوں کے لیے مفت تربیتی پروگرام فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
“اے آئی فار آل”کے عنوان سے تیار کردہ اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ آج لیے گئے فیصلے کینیڈا کے مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ یہ دستاویز حال ہی میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی، تاہم یہ حتمی نہیں اور اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
مسودے کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ 2031 تک شہریوں کو مفت اے آئی لٹریسی (بنیادی تربیت) فراہم کی جائے، ایک ملین طلبہ کو ابتدائی سطح کی تربیت دی جائے اور کاروباری اداروں میں اے آئی کے استعمال کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے۔
اہم اہداف میں شامل ہے کہ اے آئی سے متعلق ملازمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے، اور ملک میں”سوورین اے آئی انفراسٹرکچر”یعنی خودمختار ڈیجیٹل نظام مضبوط کیا جائے۔
مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں اے آئی کے استعمال اور اعتماد کے درمیان خلا موجود ہے، خاص طور پر چھوٹے کاروبار جدید ممالک کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔حکومت نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کے ذریعے شہریوں تک اے آئی تربیت پہنچائی جائے اور اساتذہ کو جدید تربیتی کٹس فراہم کی جائیں۔
دستاویز میں اے آئی سے ممکنہ خطرات کے حوالے سے اقدامات بھی شامل ہیں، جیسے بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانا، پرائیویسی قوانین کو مضبوط بنانا، اور اے آئی مواد کی شفافیت کے لیے واٹر مارکنگ جیسے اقدامات۔ تاہم ان حفاظتی اقدامات کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔حکومت کا منصوبہ ہے کہ اے آئی کے ذریعے لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کی جائیں اور طلبہ و نوجوانوں کے لیے خصوصی روزگار پروگرام شروع کیے جائیں۔
اس کے علاوہ کینیڈا میں “سوورین اے آئی” کے تحت ملکی ڈیٹا اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، سپر کمپیوٹر بنانے اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔ماہرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی ایک طرف اے آئی کے بڑے پیمانے پر استعمال اور معاشی فائدے پر زور دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے ممکنہ خطرات اور ضابطہ کاری کے حوالے سے ابھی کئی سوالات باقی ہیں۔

