تہران ( ایرانی مسلح افواج، تسنیم نیوز ایجنسی، رائٹرز)ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی عسکری کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے اور جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا سبب بنے گا، جس کے نتائج کی ذمہ داری حملہ آور فریق پر عائد ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ جلد ہو سکتا ہے اور ایران اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، واشنگٹن اس کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

