ابوظبی( غیر ملکی میڈیا)متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام پہلے ان کے ملک کی دوسری یا تیسری بڑی تشویش تھا، تاہم اب یہ پہلی بڑی تشویش بن چکا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی نئے جنگی مرحلے سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔انور قرقاش نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ پر بھی سنگین اثرات مرتب کرے گی۔
انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنی توانائی اور تجارت کے تناظر میں دیکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات سیاسی حل کا خواہاں ہے، تاہم خدشہ ہے کہ بعض سفارتی اقدامات مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
اماراتی صدارتی مشیر نے بتایا کہ اوپیک چھوڑنے کے معاملے پر متحدہ عرب امارات گزشتہ 3 برس سے غور کر رہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اب خلیجی ممالک کے قومی دفاعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں اور امریکا خطے کے سیکیورٹی اندازوں میں پہلے سے زیادہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

