نئے سال کے لئے بجٹ کی تیاریاں مکمل ہو گئیں اور اب یہ بھی طے پا گیا کہ بجٹ اجلاس10جون کو ہو گا کہ ایوان کی دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف بار بار عوام کو ریلیف دینے کا یقین دِلا رہے ہیں اور اب تو انہوں نے تجارت کی ترقی کے لئے تاجر برادری کو بھی بڑا دلاسہ دیا ہے کہ ان کی تجاویز پر غور ہو گا۔یہ سب حقائق ہیں جو خبروں کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں تاہم جہاں تک ملازمین اور عام آدمی کا تعلق ہے تو ان کے لئے صرف تسلی ہی ہے کہ آئی ایم ایف نے ابھی تک ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور پنشنروں کے حوالے سے کوئی کلیرنس نہیں دی۔خبروں کے مطابق وفاقی حکومت تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کرنے کی خواہشمند ہے اس کے لئے بھی آئی ایم ایف کی رضا مندی لازم ہو گی۔ بہرحال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والی مصالحت کے باوجود قومی اقتصادی کونسل کا علان ہنوز ہونا ہے جو اب بلاول بھٹو کی گلگت۔ بلتستان سے واپسی پر ہو گا وہ پانچ جون کو انتخابی مہم کے اختتام پر واپس پہنچیں گے تو یہ اجلاس بہرصورت 10جون سے پہلے ہو گا۔فریقین کے درمیان اختلاف بھی ٹیکسوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے حصے کا ہے۔ کافی عرصہ سے یہ خبریں گردش کرتی چلی آ رہی ہیں کہ وفاقی حکومت قومی مالیاتی فنڈز میں صوبوں کے حصے میں کچھ کمی کرانا چاہتی ہے کہ18ویں ترمیم کے حوالے سے تحفظات کے علاوہ صوبائی حصص کے بارے میں بھی تحفظات ہیں۔بہرحال ابتدائی اجلاس کامیاب رہا تو اقتصادی کونسل والی رکاوٹیں بھی دور ہو جائیں گی۔
یہ مانا کہ فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے وفاق کو بعض شکایات ہیں اور اخراجات کے حوالے سے فنڈز کی کمی ہے اس کے باوجود ماہرین اور ہم جیسے صحافتی کارکنوں کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت خود اپنی کارکردگی پر غور کرے کہ اس کے ماتحت محکموں، نیم خود مختار اداروں اور ٹرسٹ (اداروں) کی اپنی آمدنی کہاں جا رہی ہے اور بابو ذہنیت نہ صرف ان محکموں اور اداروں کے ملازمین اور پنشنروں کو تکلیف پہنچا رہی ہے،بلکہ اپنے فرائض میں بھی بددیانتی کی مرتکب ہو رہی ہے۔یہ حضرات سب سے پہلے تو فضول خرچی اور کام چوری میں مبتلا ہیں اور اس کے بعد اداروں کی آمدنی حاصل کرنے میں بھی ناکام ہیں کہ یہ جان بوجھ کر توجہ نہیں دیتے۔
اس حوالے سے ای او بی آئی سے لیکر اوقاف تک کے متعدد اداروں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں تاہم بڑی افسوسناک اور حیرت انگیز غفلت اور کام چوری نیشنل پریس ٹرسٹ میں ہو رہی ہے۔ اخبارات اور جرائد کے قاری جانتے ہیں کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کس بَلا کا نام ہے یہ ادارہ جنرل ایوب کے دور میں قائم کیا گیا اور مقصد آزادی اظہار پر کنٹرول تھا کہ ایوب خان کو تنقید پسند نہیں تھی چنانچہ صحافت کو راہِ راست پر لانے کے لئے نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کر کے پی پی ایل(روزنامہ پاکستان ٹائمز+ روزنامہ امروز+ سپورٹس ٹائمز) روزنامہ مشرق اور روزنامہ الہلال اس ٹرسٹ میں شامل کر لئے گئے اور یہ سرکاری ادارے بن گئے)ان کے ساتھ ان کے اثاثے بھی لے لئے گئے۔ روزنامہ ”مشرق“ کا اپنا پلازہ زیر تعمیر تھا جبکہ پی پی ایل ایک متروکہ وقف املاک کی بلڈنگ میں تھا جہاں سے قیام پاکستان سے قبل روزنامہ ٹریبون شائع ہوتا تھا۔
سب حضرات تفصیل جانتے ہیں تاہم اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ پی پی ایل والی قیمتی عمارت پی پی ایل ورکرز یونین اور چیئرمین/ چیف ایڈیٹر زیڈ اے سلہری کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت کارکنوں نے تین بونس نہ لئے اور زیڈ اے سلہری نے حکومت وقت سے بات کر کے متروکہ وقف املاک بورڈ سے یہ عمارت25لاکھ روپے کے عوض لیز پر لے لی اور یوں ادارے پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی۔ تاہم اپنوں اور پرایوں کی مہربانی سے92-1991ء میں این پی ٹی ٹوٹ گیا،تمام اخبارات بند کر کے ملازم فارغ کر دیئے گئے، سب سے پہلے امروز بند کیا گیا اور ملازمین کو پورے واجبات بھی نہ دیئے گئے۔ مشرق اور پاکستان ٹائمز کو بند کرتے وقت ادائیگی گولڈن شیک ہینڈ کے تحت ہوئی اور ملازمین کو معقول واجبات مل گئے تاہم یہ فارمولا امروز پر واجب نہ ہوا۔ ملتان اور لاہور کی پراپرٹی این پی ٹی کی ملکیت ٹھہروی جیسے الہلال اور روزنامہ مشرق کی ہے۔اس کے بعد صورتحال یہ تھی کہ اخبارات بند اور ملازم فارغ، تاہم نیشنل پریس ٹرسٹ قائم رہا اور ہے۔ پاکستان ٹائمز کا ڈیکلیریشن، مشینری، قیمتی ترین لائبریری صرف پانچ لاکھ میں نیلام کر دی گئی، جبکہ امروز کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔ ملتان اور دیگر مقام پر جائیداد این پی ٹی کی نگرانی اور ذمہ داری میں آ گئی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ بند کیے جانے والے اخبارات کی اربوں روپے کی جائیداد کی نگرانی این پی ٹی کے پاس سے جسے بوجوہ قائم رکھا گیا اب اس کے چیئرمین، جنرل منیجر اور مقامی و مرکزی سٹاف بھی ہے ان کی ذمہ داری اس اربوں روپے کی جائیداد کا تحفظ اور رواں آمدنی ہے جبکہ یہ افسر اور ملازم خود بڑے مشاہرے لے رہے ہیں۔روزنامہ امروز کے کارکنوں نے طویل عدالتی تگ و دو کے بعد پنشن کا حق حاصل کیا تاہم عدالت میں طویل عرصہ سے درخواستیں زیر سماعت ہیں اور ان کو پنشنوں میں ہونے والا اضافہ نہیں دیا گیا۔عدالت عظمےٰ میں رٹ زیر سماعت ہے اس عرصہ میں امروز کے ملازمین یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہوتے رہے اور اب ڈیڑھ دو درجن پنشنرز باقی ہیں جن کو این پی ٹی سے پنشن ملتی ہے، لیکن اس ٹرسٹ کے ایک بڑے بابو پچاس فیصد حاضری کا فائدہ اٹھا کر دفتر تشریف نہیں لاتے،نہ صرف پنشنروں کو بروقت پنشن ادا نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ حضرات اربوں روپے کی جائیداد کا تحفظ بھی نہیں کر پاتے۔لاہور کی عمارت بٹ گئی اب پہلا نشان نہیں۔ ملتان امروز کی عمارت پر بھی قبضہ گروپ قابض ہیں جبکہ مشرق لاہور کا پلازہ بھی اسی زد میں ہے۔این پی ٹی کے مرکزی دفتر والے اب ادھر تو توجہ نہیں دیتے۔ پنشنروں کو پنشن کا حق بروقت ادا نہیں کرتے۔تاحال عیدالضحےٰ کے باوجود مئی کی پنشن ادا نہیں کی گئی۔ ایسا ہی دیگر اداروں کے ساتھ بھی ہوتا ہے، وزیراعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

