لندن (رائٹرز/بی بی سی) برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو سے ’پرنس‘ (شہزادے) کا خطاب واپس لیتے ہوئے انہیں لندن کے مغرب میں واقع ونڈسر کے شاہی محل سے بھی نکال دیا۔ یہ فیصلہ جیفری ایپسٹن اسکینڈل سے شاہی خاندان کو مزید بدنامی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
شاہی محل کے ترجمان کے مطابق، اینڈریو سے یہ مراعات اس وقت واپس لی گئیں جب ورجینیا رابرٹس نامی خاتون کی یادداشت پر مبنی کتاب منظر عام پر آئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ شہزادہ اینڈریو نے ان کے ساتھ نوعمری میں جنسی تعلق قائم کیا اور اسے اپنا ’’پیدائشی حق‘‘ قرار دیا۔

65 سالہ اینڈریو، جو بادشاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اور مرحوم ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹن سے تعلقات کی وجہ سے عوامی دباؤ اور تنقید کی زد میں رہے ہیں۔
بکنگھم پیلس کے مطابق، اینڈریو کو ’’رائل لاج‘‘ کے نام سے معروف محل کا لیز واپس کرنے کا باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ وہ جلد ہی سینڈرنگھم اسٹیٹ میں واقع اپنی نجی رہائش میں منتقل ہوں گے۔
شاہی محل کے بیان میں کہا گیا ہے’’شاہی خاندان متاثرین کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتا ہے۔ اینڈریو کے انکار کے باوجود ان کیخلاف یہ کارروائی ناگزیر سمجھی گئی۔‘‘
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو سے 2022 میں فوجی عہدے، شاہی سرپرستیاں اور اعزازات بھی واپس لے لیے گئے تھے، جب ان پر ورجینیا رابرٹس نے جنسی بدسلوکی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ بعد ازاں اسی سال فریقین کے درمیان عدالتی تصفیہ ہوا، اگرچہ اینڈریو نے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
ورجینیا رابرٹس، جو ایک آسٹریلوی نژاد برطانوی خاتون تھیں، اپریل 2025 میں ایک کار حادثے میں انتقال کر گئیں۔ ان کی کتاب کی اشاعت کے بعد ایک بار پھر یہ اسکینڈل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
شاہی مبصرین کے مطابق، بادشاہ چارلس کا یہ فیصلہ شاہی خاندان کو اخلاقی بحران سے نکالنے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس کے بعد اینڈریو اب صرف ’’اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر‘‘ کے نام سے جانے جائیں گے۔

