بچوں کا کیا کریں؟

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، بچوں کی تعلیم قوم کی ترقی کی بنیاد بنتی ہے لیکن بدقسمتی سے آج پاکستان میں 5سے 16 سال کی عمر کے بچوں کا 44 فیصد جو کہ دو کروڑ 66لاکھ بنتا ہے، سکول نہیں جا رہا۔ ان بچوں کو تعلیم نہیں مل رہی تو ذمہ دار کون ہے؟ والدین یا ریاست؟ دیکھا جائے تو اصل ذمہ دار ریاست ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق حکومت ہر بچے کو میٹرک تک مفت تعلیم دینے کی پابند ہے۔ اس کے برعکس حالت یہ ہے کہ جہاں دو کروڑ 66 لاکھ بچہ سکول نہیں جا رہا وہاں سکول جانے والے بچوں کو تعلیم اس قدر ناقص دی جارہی ہے کہ ان کی بھی بہت بڑی تعداد میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں بری طرح فیل ہو گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے 2025ء میں ہونے والے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی رپورٹ سامنے آئی، دیکھ کر شدید جھٹکا لگا۔ میٹرک کے امتحان میں پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد بچے فیل ہو گئے،ان بچوں میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب کی تھی۔ پنجاب سے 12 لاکھ 26 ہزار سے زائد بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا اور تین لاکھ 58 ہزار بچے امتحان پاس نہ کرسکے۔ پنجاب میں صرف لاہور سے دو لاکھ 53 ہزار بچوں نے امتحان دیا اور 81 ہزار 419 بچے ناکام ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 4 لاکھ 44 بچوں نے امتحان دیا، 80 ہزار 558 بچے ناکام ہوئے۔ سندھ میں چار لاکھ 50 ہزار بچوں نے امتحان دیا جس میں سے 51 ہزار فیل ہوئے۔ بلوچستان میں ایک لاکھ 78 ہزار 839 بچوں نے امتحان دیا جس میں سے 9797 بچے ناکام ہوئے۔ فیڈرل بورڈ یعنی اسلام آباد میں ایک لاکھ 37 ہزار بچوں میں سے 15 ہزار 798 بچے فیل ہو گئے۔ یہ ہمارے میٹرک کے نتائج تھے جبکہ انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 4 لاکھ سے زائد بچے ناکام ہوئے۔ پنجاب میں 7 لاکھ 59 ہزار سے زائد بچوں نے امتحان دیا اور دو لاکھ 70 ہزار سے زائد فیل ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 82 ہزار سے زائد بچوں نے امتحان دیا اور 53 ہزار ناکام ہوئے۔ بلوچستان میں 54 ہزار سے زائد بچوں نے امتحان دیا اور تین ہزار سے زائد ناکام ہوئے۔ اسلام آباد یعنی فیڈرل بورڈ میں ایک لاکھ سے زائد بچوں نے امتحان دیا 17 ہزار سے زائد ناکام ہوئے۔ آزاد کشمیر میں ایک تہائی بچے امتحان میں ناکام ہوئے، وہاں 48 ہزار بچوں نے امتحان دیا تھا جس میں سے 16 ہزار ناکام ہوئے۔ یہ ہیں ہمارے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج۔

یہ امتحانی نتائج اس قوم کے بچوں کے ہیں جن کے دو کروڑ 66 لاکھ بہن بھائی، کزنز سکول نہیں جا رہے، یعنی تعلیم ہی حاصل نہیں کررہے۔ یونیسیف اور عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے مزدوری کررہے ہیں۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ یہ بچے اپنے ”گھر والوں کی مالی مدد“ کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں اور ان بچوں میں وہ بھی شامل ہیں جو جبری مشقت کر رہے ہیں۔ ایک طرف تعلیم نہیں مل رہی یا تعلیم دی نہیں جا رہی اور دوسری طرف اسی ملک میں گھوسٹ سکولوں کی تعداد کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق 30 ہزار تک پہنچ گئی ہے جن میں سے سات ہزار سکول صرف سندھ میں ہیں۔ بلوچستان میں بھی گھوسٹ سکولوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، وہاں تو 65 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں جس کی ایک وجہ وہاں کی صورتحال بھی ہے، جہاں سکولوں میں جانے والے بچوں کو ”باغیوں“کی طرف سے دھمکیاں ملتی ہیں۔ گھوسٹ سکولوں میں وہ سکول بھی ہیں جہاں نہ پنکھا ہے، نہ پانی ہے، نہ باتھ روم، نہ چاردیواری ہے۔اِن سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں، سکولوں کی مرمت اور نئے فرنیچر کی خریداری کا پیسہ اور دیگر سرکاری گرانٹس جو ملتی ہیں وہ بھی خوردبرد ہوجاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے یہ پیسہ سیاستدان، ضلعی افسر اور محکمہ تعلیم کا عملہ مل کر کھاتے ہیں۔

ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 5229 گھوسٹ سکول اور 40 ہزار گھوسٹ ٹیچر پاکستان کے دیہی علاقوں کے سروے میں نکلے۔ ایک اور رپورٹ میں 4500 سکول صرف کاغذات میں موجود تھے، درحقیقت زمین پر ان کا کوئی بھی وجود نہیں تھا اور 2181 سکول صرف نام کی حد تک تھے، یعنی کاغذوں میں نام موجود تھا سکول نہیں تھے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا نصف سے بھی زیادہ ہے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ سکولوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے اب صرف 38 ہزار 108 رہ گئی ہے، جن میں پرائمری اور پرائمری/ مڈل سکولوں کی تعداد 21637 ہے، مڈل سکول 7298 ہیں، ہائی سکولوں کی تعداد 8236 ہے جبکہ ہائر سیکنڈری سکول 937 ہیں، اساتذہ کی تعداد تین لاکھ 10 ہزار 401 ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا اس قدر برا حال ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں شرح خواندگی میں سب سے پیچھے ہے۔ حتیٰ کہ بھوٹان بھی ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ سری لنکا میں شرح خواندگی 91.9 فیصد ہے، بنگلہ دیش میں شرح خواندگی 72.8 فیصد اور بھوٹان میں 66 فیصدہے۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی بقول حکومت 60فیصد ہے۔ اس صورتحال میں جبکہ ہم سب ہمسایوں سے پیچھے ہیں، ہم اپنے بچوں کو سکولوں کی طرف لانے کی بجائے اپنے سکولوں کو ”آؤٹ سورس“ کر کے غریب والدین کے لئے مزید مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ پنجاب میں حکومت 11000 پرائمری سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد اب مڈل سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے جا رہی ہے۔ ہر وہ سکول جہاں 100 سے 150 طلباء پڑھ رہے ہیں، آؤٹ سورس کردیا جائے گا، 11 ہزار سکول پہلے ہی آؤٹ سورس کئے جا چکے ہیں اور اب فروری 2026ء میں مزید 2735 سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کے لئے حکومت کو 20 ہزار درخواستیں مل چکی ہیں۔ یہ درخواستیں دینے والے کون ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب ”پشت پناہی“ رکھنے والے گروپوں کو یہ سکول آؤٹ سورس کررہی ہے۔ پہلے تو یہ بھی کہا گیا تھا کہ سرکاری سکول ”لیگی ورکرز“ کو دئیے جارہے ہیں لیکن اب ”پرائیویٹ سکول مافیا“ ان سرکاری سکولوں کو حاصل کرنے کے لئے ”دست و گریباں“ ہونے کو تیار ہے۔ حکومت کے ترجمانوں کی طرف سے کہا یہ جا رہا ہے کہ خستہ حال، خطرناک، مخدوش عمارتوں والے سکول بند کئے جائیں گے۔ حکومت کا سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا آخر مقصد کیا ہے؟ ان سکولوں میں پڑھنے والے ہر بچے کے عوض حکومت 1500 سے 5000 روپے مہینہ ان سکولوں کی انتظامیہ کو دے گی۔ یہ تو سکولوں کے ”نئے مالکان“ کے لئے منافع کا سودا ہوا، بنی بنائی عمارت مل گئی۔ بچے پہلے سے وہاں موجود تھے مزید بچے وہاں ”نئی انتظامیہ اپنی شرائط“ پر رکھے گی۔ فیس بھی لیں گے اور 4 ہزار روپے فی بچہ تک حکومت بھی دے گی، اسے کہتے ہیں ”چوپڑیاں تے دو،دو“۔۔۔