تاریخ میں دس اپریل کو کیا کیا ہوا؟

گزشتہ روز 10اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10اپریل کی تاریخ دنیا بھر اور خاص طور پر پاکستان میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کی مختصر سی ٹائم لائن دیکھتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہے۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ مختلف ممالک کے نیوکلیئر ٹیسٹوں کے حوالے سے چونکا دینے والا ڈیٹا رکھتی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت یونین، امریکہ اور فرانس نے اپنے نیوکلیئر ٹیسٹ کیلئے مختلف پانچ برسوں میں دس اپریل کے دن کو ہی چُنا۔

ترتیب کے مطابق سوویت یونین نے دس اپریل 1957ء، امریکہ نے دس اپریل 1963ء، دس اپریل 1968ء، دس اپریل 1986ء اور فرانس نے دس اپریل 1981ء کو اپنے اپنے نیوکلیئر ٹیسٹ کیے۔ نیوکلیئر دھماکوں کے علاوہ کچھ دوسرے دھماکہ خیز واقعات بھی دس اپریل کو ہی رونما ہوئے جنہوں نے مستقبل کی انسانی تاریخ پر اہم اثرات مرتب کیے۔ مثلاً برطانیہ نے دس اپریل 1710ء کو کاپی رائٹ کے ضابطہ کار کا پہلا قانون ایشو کیا جس کے بعد اصل مسودے کے مصنف کو قانونی تحفظ ملا۔ امریکی صحافت کا مشہور اخبار نیویارک ٹریبیون نامور صحافی ہوریس گریلی کی ایڈیٹرشپ میں دس اپریل 1841ء کو شائع ہونا شروع ہوا۔

امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیواورلینز میں دس اپریل 1872ء کو سیاہ فام لوگوں کا پہلا ’’نیشنل بلیک کنونشن‘‘ منعقد ہوا۔ امریکہ میں سیاہ فاموں کی دس اپریل کے دن شروع ہونے والی سیاسی بیداری کے 137 برس بعد براک اوبامہ پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔ تفریح اور مختصر سفر کی سہولت کیلئے کیبل کار کا تصور بھی پہلی مرتبہ دس اپریل 1878ء کو امریکہ میں کیلی فورنیا سٹریٹ کیبل کار ریل روڈ کمپنی پراجیکٹ کے نام سے شروع ہوا۔ جاپان کے سیاسی جمہوری سفر میں بھی دس اپریل بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دس اپریل 1946ء کو پہلی مرتبہ جاپان کی پارلیمنٹ کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

امریکہ اور چین کے درمیان اہم ترین سفارت کاری کا واقعہ پنگ پونگ ڈپلومیسی ہے جس کے تحت امریکی ٹیبل ٹینس ٹیم دس اپریل 1971ء کو چین پہنچی۔ امریکہ اور چین کے درمیان یہ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایران میں دس اپریل 1972ء کو سات اعشاریہ صفر شدت کا زلزلہ آیا جس سے صوبہ فارس کی آبادی کا پانچواں حصہ مکمل طور پر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اِسی دن یعنی دس اپریل 1972ء کو امریکہ، سوویت یونین اور 70 دیگر ممالک بائیولوجیکل ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر متفق ہوئے۔ دنیا کے افسانوی بحری جہاز کا درجہ رکھنے والے ٹائی ٹینک نامی شپ نے برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ایمپٹن سے نیویارک کے لیے اپنے سفر کا آغاز دس اپریل 1912ء کو کیا۔ اس میں تقریباً دو ہزار دو سو چوبیس مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ یہ جہاز اپنے پہلے اور آخری سفر کے دوران ہی سمندر میں آئس برگ سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔

ہالی ووڈ کے شہرئہ آفاق مصری ایکٹر عمر شریف دس اپریل 1932ء کو سکندریہ مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور فلموں میں دا جیول آف دا نائل، فنی گرل، ڈاکٹر ژیواگو، جنگیز خان اور لارنس آف عربیہ وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے بھی دس اپریل کی تاریخ خاص اہمیت کی حامل ہے۔ د س اپریل 1973ء کو پاکستان کا تیسرا آئین پارلیمنٹ سے منظور ہوا جسے 14 اگست 1973ء کو نافذ کیا گیا جو اَب تک نافذالعمل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے دس اپریل 1986ء کو لاہور پہنچیں۔ دس اپریل 1988ء کا دن راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری کبھی نہیں بھول سکتے جب صبح سویرے پوری فضاء میزائلوں کے دھماکوں سے گونج اٹھی کیونکہ جڑواں شہروں کے سنگم پر واقع اسلحہ ڈپو اوجڑی کیمپ پھٹ گیا جس میں سٹور کیے ہوئے میزائل اڑاڑکر گرنے لگے۔

دس اپریل 1988ء کا یہ دن سعودی عرب میں مقیم 29 برس کے ایک پاکستانی نوجوا ن بھی کبھی نہیں بھول سکتے کیونکہ اسی اوجڑی کیمپ سے نکلنے والے ایک میزائل نے ان کے والد کی چلتی گاڑی کو ہٹ کیا جس میں اُن کے والد وفاقی وزیر خاقان عباسی جاں بحق ہوگئے اور ان کے بڑے بھائی زخمی ہوکر تقریباً 17 برس تک بیہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ اُس نوجوان شاہد کو ہم شاہد خاقان عباسی کے نام سے جانتے ہیں جو بعد میں پاکستان کے وزیراعظم بھی بنے۔ پاکستان کے دستور میں مشہور زمانہ 18ویں ترمیم بھی دس اپریل 2010ء کو منظور ہوئی۔

دس اپریل 2022ء کی تاریخ کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی۔ ملک کی اب تک کی تقریباً 79برس کی ہسٹری میں وزیراعظم کیخلاف منظور ہونیوالی عدم اعتماد کی یہ پہلی تحریک تھی۔ دس اپریل 2024ء بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اُس دن پورے پاکستان نے اتفاق کے ساتھ ایک ہی دن عیدالفطر منائی۔ اگر یہ کہا جائے کہ دس اپریل 2026ء بنی نوع انسان کی تاریخ میں اہم ترین دن ہے جس کا سہرا پاکستان کے سرپر سجا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگ جوکہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہورہی تھی اور خدشہ تھا کہ ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کیلئےایٹمی ہتھیار استعمال کیے جائیں گے لیکن پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک مخلصانہ کوششوں نے انسانیت کی اِس تباہی کو وقتی طور پر رکوا دیا جس کے بعد دس اپریل 2026ء کو اسلام آباد میں امن مذاکرات کا اعلان کیا گیا اور ایک دوسرے کے جانی دشمن ممالک پاکستان کی میزبانی میں امن اور صلح کے معاہدے پر غور کرنے لگے۔ اِن کوششوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان اور اس کی سول و عسکری قیادت کو بے حد عزت واحترام کی نظروں سے دیکھا جانے لگا ہے۔ پاکستان کی اِس سفارت کاری کو تاریخ کی مشکل ترین اور کامیاب ترین سفارت کاری کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آئندہ آنے والے برسوں میں دس اپریل کے دن کیا کیا اہم واقعات ہوتے ہیں۔