جیو اور جینے دو!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے بیانات سے صورت حال کی بہتری معدوم ہو جاتی ہے اور پھر وہ ایسی بات بھی کر جاتے ہیں جس سے نئی امید بندھ جاتی ہے۔ اب بھی انہوں نے آپریشن میں وقفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھے مذاکرات ہو رہے ہیں، دوسری طرف ایران کی انتظامیہ اور حکومت کے مختلف حصوں کے بیانات میں کوئی بڑا تضاد نہیں ہے اگرچہ پاسداران انقلاب کی طرف سے امریکی دھمکیوں کا جواب لازم ٹھہرجاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امن کی بات تو کی ہے لیکن آبناء ہرمز کی ناکہ بندی جوں کی توں رکھنے کا اعلان کیا ہے اوریوں وہ دنیا بھر کی معیشتوں کا بُرا حال کئے رکھنا چاہتے ہیں ان کے وزیرخزانہ کے مطابق امریکہ کی مصنوعات زیادہ بک رہی ہیں (یقینا اس میں پٹرولیم کا درجہ اول ہے) شاید یہی وجہ امریکہ کو ہنگامی حالت برقرار رکھنے پر آمادہ کئے ہوئے ہے حالانکہ ان کے اپنے حلیف بھی تنگ آئے ہوئے ہیں کہ مہنگائی نے سب کومتاثر کیا ہے۔ میرا صحافتی تجربہ یہ ہے کہ جو کھلے عام کہاجاتا ہے وہ عوامی کھپت کے لئے ہوتا ہے اور جو بات چیت درون خانہ ہو اس کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ اب بھی اگر صدر ٹرمپ مفید بات چیت کا ذکر کرتے ہیں تو ایرانی وزیر خارجہ عراقچی بھی ایسی ہی امید افزا کہانی بیان کر دیتے ہیں۔ بہرحال ہمیں بڑھک بازی کے تاثر کو جھٹک کر امید کا دامن تھامناچاہیے کہ پاکستان کے وزیرخارجہ بھی اچھی اچھی گفتگو کررہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ سب کو عقل سلیم عطا فرمائے اور خون ریزی رک جائے۔

آج تو ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی بات پر تحریر ہونا چاہیے کہ وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں، اب انہوں نے فرمادیا ہے کہ اگر بی 2بمبار طیاروں سے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات تباہ نہ کرتے تو وہ ایک ہفتے کے اندر ایٹم بنا لیتا اور اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ تباہ ہوجاتے اور ایران، امریکہ تک بھی پہنچ جاتا اور ہم بھی نہ ہوتے۔ اس سے قبل وہ یہ دھمکی دے چکے تھے کہ اگر ایران کی طرف سے امریکی بحری بیڑے پر حملہ کیا گیا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اور یہ تکبرانہ دھمکی پہلے کئی مرتبہ نہیں دی گئی بلکہ دہرائی گئی ہے جبکہ اب انہوں نے نیا شوشہ چھوڑ دیا اور یہ ہضم ہونے والا نہیں۔ ذرا جائزہ لیں تو اس وقت دنیا میں امریکہ کے ساتھ برطانیہ، فرانس، روس، چین اور بھارت کے علاوہ پاکستان اعلانیہ ایٹمی صلاحیت کے ممالک ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس بھی اس صلاحیت کے ہونے کی بات کی جاتی ہے، اب اگر ایران بھی اعلانیہ ایٹمی ملک بن جاتا تو اس سے صلاحیت والے ممالک کی فہرست میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا تو کیا فرق پڑتا کہ تاریخ کی تو شہادت یہ ہے کہ دنیا بھر میں واحد ملک امریکہ ہے جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر یہ قیامت خیز حملہ کیا اور اب صدر خود بڑے ”فخر“ سے فرماتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے خطرناک اسلحہ امریکہ کے پاس ہے اور فوجی صلاحیت بھی بہت زیادہ ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔ کیا ان حالات میں یہ بڑھک اور الزام مضحکہ خیز نہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے والا تھا اس لئے اس کی تنصیبات تباہ کی گئیں۔ صدر ٹرمپ بھول گئے کہ ایٹمی صلاحیت کا اعلان کرنے کے لئے گرم ٹیسٹ ہوتا ہے لیکن صلاحیت کے لئے ”کولڈ ٹیسٹ“ ہی کافی ہوتا ہے جیسے پاکستان اپنی صلاحیت بہت پہلے حاصل کرکے ”کولڈ ٹیسٹ“ کر چکا تھا اور اعلان کے لئے چاغی کا انتخاب کیا اور نوازشریف کو اعزاز حاصل ہوا۔ تب سے اب تک پاکستان کی یہ صلاحیت ذاتی دفاع کے لئے ہے خود ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے نہیں تھک رہے کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوا کر لاکھوں جانیں بچائیں کہ دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں، ایک اور پہلو پر غور فرمائیں کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے حوالے سے یہ امرمنظرعام پر ہیں کہ کس کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں لیکن امریکہ کے بارے میں تو حال ہی میں یہ انکشاف تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ نے اب ہیروشیما اور ناگاساکی والے بڑے بموں کے مقابلے میں چھوٹی صلاحیت کے ایسے بم تیار کر رکھے ہیں جو جدید دور کے ہتھیاروں،ڈرون، میزائل وغیرہ کے ذریعے استعمال کئے جا سکتے ہیں اور یہ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ایران، امریکہ تک پہنچ جاتا، اسی لئے عرض کرنا ہے کہ دنیا میں واحد ملک امریکہ ہے جس نے یہ انسانیت سوز قدم اٹھایا اور دوسرا ملک اسرائیل ہے جو انسانی نسل کشی کا ذمہ دار ہے اور اس کی یہ کارروائی اب بھی نہیں رک رہی۔ اس لئے محترم صدر امریکہ کو بات کرتے وقت غور کرلینا چاہیے۔

جیسا کہ پہلے ہی عرض کیا۔ اب بعض اشاریئے حوصلہ افزا بھی ہیں جو اس گرم بازاری میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ فریقین خصوصاً امریکہ اور اس کے صدر کو ”چسکا“ لینا چھوڑ کر دنیا میں امن کے لئے کام کرنا چاہیے کہ دنیا بھر میں مہنگائی اور بے روزگاری نے معاشی نظاموں کے سارے اعشاریئے غلط ثابت کر دیئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بلبلا رہے ہیں تو پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ ”زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے“ ہی ٹھیک ہوگا۔ ہماری دعا اور توقع ہے کہ مذاکرات کسی طور ہوں اور کامیاب ہو جائیں۔ نیت ہو تو یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں، صرف جیو اور جینے دو کا جذبہ ہونا چاہیے۔