اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں تہذیب و شائستگی اور عصر حاضر کے روشن عہد کے تقاضوں کے مطابق قومی زندگی کے تمام شعبوں میں اصلاح و احوال کی تابناک مثالیں قائم کی جائیں، سننے اور دیکھنے والے بھی ان سے سبق سیکھتے اور ایسے واقعات و حالات کے حوالے سے ملک کے اسلامی جمہوریہ ہونے کی پاسداری کے تقاضے بھی پورے ہوتے، مگر افسوس صد افسوس کہ تہذیب و تمدن کے اس روشن دور میں ہمارے ہاں ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں جو ہمارے اسلامی طرزِ حیات اور جمہوری اندازِ فکر کی نفی کرتے ہیں، اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قلم رُک جاتا ہے، ندامت ہوتی ہے کہ اس کا تذکرہ کس طرح کیا جائے، کہنے کو تو یہ شاید معمولی بات ہو مگر نہیں ایسا نہیں ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جو ہوا ہماری کیا کرہ ارض کی ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ میں بھی ایسا نہیں ہوا ہو گا،اس واقعہ کو معرضِ تحریر میں لاتے ہوئے سرندامت سے جھک جاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ راولپنڈی میں،یعنی ملک کے وفاقی دارالحکومت کی عین ناک کے نیچے تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزموں کو ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل سے کچہری اور واپس جیل تک خواتین ملزموں کے دونوں ہاتھ تقریباً چھ سے سات گھنٹے تک ہتھکڑیوں میں جکڑے رہے،خواتین ملزموں کو دونوں ہاتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہونے کے باعث اپنا دوپٹہ سر پر اچھی طرح لینے کے لئے نہ صرف شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ ایسا نہ کر سکیں اور پولس وین میں سوار ہوتے وقت بھی انہیں دشواری ہوئی،واش روم جاتے ہوئے ان کی ہتھکڑیاں لگی رہیں، مرد پولیس والے ہی خواتین کو پیچھے سے پکڑ کر وین میں بٹھاتے اور اتارتے رہے۔خواتین کو پہلی بار راولپنڈی کچہری میں ہتھکڑیوں میں دیکھ کر راولپنڈی کے وکلاء نے اسے غیر قانونی،غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام قرار دیا، وہاں کے سینئر وکیل شان زیب خان کے بیان کے مطابق خواتین ملزموں کو دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگانے کا حکم سی پی او راولپنڈی نے جاری کیا تھا، خدا معلوم اِن خواتین ملزموں کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا اور کس مقدمہ میں پیشی کے لئے راولپنڈی کچہری لایا گیا مگر اِن پر عائد الزام کا فیصلہ بہرحال آئین و قانون کے مطابق ہو گا، مگر خواتین کو عدالت میں پیشی کے لئے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیوں سے جکڑ کر لانا تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے، کس قدر دُکھ دہ بات ہے کہ عصر حاضر میں ملزموں اور مجرموں کی اصلاح و بہبود پر دنیا بھر میں پوری سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ اکثر ممالک میں اصلاحِ احوال کے اقدامات بھی کئے گئے تاکہ جرائم کو معاشرے میں کم کرنے کے لئے جرائم پیشہ ذہنوں کو بدلنے کے لئے صحت مندانہ اقدامات کئے جائیں اور اس کے بہترین نتائج بھی دستیاب ہو رہے ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے ہاں آج کے ترقی پذیر دور میں بھی بعض لوگ اپنے اختیارات اور عہدوں کو معاشرے کی اصلاح کی بجائے ترقی معکوس کے لئے مخصوص کرنے پر بضد ہیں۔سوال یہ ہے کہ جو بات کسی محکمہ کے اربابِ حل و عقد نے عصری تقاضوں کے برعکس خیال کر کے اسے استعمال کرنے یا اس پر عمل کرنے سے اعتراض کیا اور کیا جا ہا ہے اس پر عملدرآمد کیوں ضروری سمجھا گیا ایسے اقدامات پر عمل پیرا کیوں ہوتا ہے جو ہماری قومی تاریخ کے شائستگی کے باب میں دھبہ ثابت ہوں،ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ کے ہر ورق کو ایسے شائستہ اور نکھرے ستھرے فیصلوں اور اقدامات سے مزین کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے دیگر اقوام کو بھی اپنے معاشرتی شعبوں کی اصلاح کے لئے رہنمائی ملے۔یہ اختراع کیوں کر وضع ہوئی۔ اِس امر کی پوری چھان بین ہونی چاہئے کیونکہ جو چیز کبھی ہمارے قانونی اور آہنی نظام میں دیکھنے کو نہیں ملی اس کی ابتداء کرنے کی ضرورت کیسے ہوئی اور اس کی نوبت کیسے آئی۔ اس قسم کی حرکات اور ارتکاب ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کو زیب نہیں دے سکتا۔اربابِ اختیار کو ایسے نازیبا اقدامات کو راستہ روکنا ہو گا تاکہ آئندہ کسی بھی اہلکار کو ایسے معاملات میں من مانی کرنے کا موقع ملے نہ جرأت ہو۔

