رفاقت چودھری کا انتقال اور آج کا امریکہ!

اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ہمارا مقدر ہے اور اللہ نے ہی اس طرح لکھا ہوا ہے تاہم اس کے باوجود جب ذہن حضرت محمد مصطفےٰ ؐ کی حیات مبارکہ اور ان کی تعلیمات کی طرف جاتا ہے تو پھر یہ یاد آ جاتا ہے۔حضورؐ نے فرمایا کہ کسی انسان کو دوسرے پر فضیلت نہیں تا آنکہ وہ پرہیز گار نہ ہو۔ یوں فضیلت کا تعلق انسانی کردار سے ہے لیکن دنیا میں سب نے ا صول کو تاک میں رکھا ہوا ہے اور انسانیت کا نام لے کر یہاں انسانیت کش نظام جاری ہے جہاں سب سے پہلے سچ و حق اور انصاف کا قتل ہوتا ہے۔ آج کے دور میں یہی کچھ ہو رہا ہے اور طاقتور ساتxبیس کو اپنے لئے سو گنتا ہے اسی زعم میں امریکی صدر ٹرمپ اپنی کررہے ہیں ان کی وجہ سے دنیا بھر میں بے چینی اور ہر ایک کی معیشت کسی نہ کسی دباؤ کا شکار ہے۔ ہم تو یوں بھی پہلے ہی سے معیشت کے حوالے سے کسی خوشگوار حیثیت کے مالک نہیں ہیں، اس لئے بوجھ اور سوچ بھی اسی کے مطابق ہے اس لئے ایران۔امریکہ کے درمیان جاری لڈو کا کھیل بھی پہلے کی طرح ہے۔ پل میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ اس سے عالمی مارکیٹ بھی اسی حوالے سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اس لئے آج ہم بھی اس مسئلہ کو قسمت کی دھار پر ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا، میں اور آپ نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھا سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری پہنچ ایران کی روحانی اور سیاسی قیادت تک ہے۔

آج اس صورت حال کو حالات کے رحم و کرم اور تھپیڑوں پر چھوڑ کر امریکہ ہی کے ایک باسی کی بات کرلیتے ہیں جو تین روز قبل دنیا چھوڑ کر اللہ کے حضور حاضر ہو گیا ہے۔ بروکلین نیویارک کی معروف شخصیت رفاقت چودھری انتقال کرگئے اور ان کو دو روز قبل سپردخاک بھی کر دیا گیا ہے۔ اندرون شہر لاہور کا یہ پکا لاہوری جو رکوڑبولتا تھا اور پکا امریکن ہو کر رہ گیا تھا۔ رفاقت چودھری ہمارے بھائی ڈاکٹر جہانگیر بدر کا خالہ زاد بھائی تھا، مجھے اس لئے یاد آیا کہ رفاقت نے اپنے چند پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ مل کر بروکلین جیسے علاقے میں مشکل زندگی کو آسان بنایا، میں اپنی زندگی میں پہلی بار جب ملک سے باہر گیا تو پہلا پڑاؤ برطانیہ اور پھر امریکہ تھا، میں نے دونوں ممالک میں قریباً ساڑھے چار ماہ گزارے اور اسی دوران رفاقت کی میزبانی میں بھی پانچ روز بروکلین (نیویارک) میں گزارے اور وہ وقت اب یاد آ رہا ہے کہ آج کا دور دوسرے ممالک سے امریکہ منتقل ہو کر بسنے والوں کے لئے بہت مشکل ہے جبکہ 1988ء کا وہ زمانہ رفاقت چودھری جیسے نوجوانوں کے لئے چیلنج تھا۔

امریکہ میں میرا پہلا قیام تو استاد محترم سید اکمل علیمی (مرحوم) کے پاس تھا اور یہ دو ہفتے اتنے یادگار ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے،اکمل صاحب کی میزبانی میں میرے جو پندرہ روز گزرے وہ ایسے ہیں کہ ہرپل یاد آتے ہیں، اکمل صاحب روزانہ کم از کم دو سو میل کا سفر ضرور کراتے اور اس دور کئی شہر اور یادگاریں بھی دکھادیں۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ یہ اکمل علیمی ہی تھے جنہوں نے امریکہ میں ”لاہور“ دریافت کیا اور وہ لاہوری کولمبس ٹھہرے۔ خیر بات تو مجھے رفاقت کی کرنا ہے جسے اطلاع کی گئی تو اس نے بڑی خوش دلی سے خیر مقدم کیا اور خوشی کا اظہار کیا تھا،چنانچہ پندرہ روز قیام کے بعد میری روانگی ہوئی اور میں نیویارک پہنچ گیا۔ میری لندن سے ورجینیا اور نیویارک کے بعد واپس لندن کے لئے پین۔ایم۔ ایئرلائنز کی بکنگ تھی،چنانچہ ورجینیا سے جب کینیڈی ایئرپورٹ پہنچا تو پہلا ہی جھٹکا لگا کہ میرا لگیج نہیں آیا تھا اور میں بالکل نہتا تھا کہ میرے پہننے والے کپڑے تک اٹیچی کیس میں تھے جبکہ ورجینیا سے خریدے گفٹ بھی ساتھ۔ تاخیر ہوئی تو رفاقت انتظار کرکے لگیج ایریا تک چلا آیا اور ہم نے مل کر گمشدگی کی رپورٹ لکھوا کر معاملہ قسمت پر چھوڑ دیا۔رفاقت نے بہت خوشی اور جوش کا مظاہرہ کیا اور اپنے فلیٹ پر لے گیا،اس کے بعد میں نے پہلا کام اس کی معیت میں اپنے لئے ضروری پہناوا لینے کا کیا، تاکہ لندن واپسی تک گزارہ ہو جہاں میرے باقی پارجات موجود تھے۔

یہ سب تحریر کرنے کا مقصد پرانی یاد تازہ کرنا تو ہے لیکن یہ بتانا بھی ہے کہ آج کے اور تب کے امریکہ میں کیا فرق تھا، رفاقت کی تب رہائش ایسے علاقے میں تھی جہاں کالے حضرات کا تھا اور تب یہ کہا جاتا تھا کہ نیویارک میں باہر نکلو تو اپنے پاس چند ڈالر ضرور رکھو کہ جب کوئی راہزن روک لے تو اسے پیش کرکے جان چھڑا سکو، رفاقت نے میرے کم وقت کے قیام کے باعث اب ہر بار باہر نکلتے وقت مجھے ساتھ رکھا، حتیٰ کہ گوشت اور پزا لینے گئے تو بھی میں ساتھ تھا، پیزا ایک لاہور ی(امریکن) سے لیا گیا جس سے تعارف اور گپ بھی ہوئی جبکہ گوشت ایک یہودی کی دکان سے خریدا گیا کہ صحیح یہودی باقاعدہ ذبح کرتے ہیں جسے وہاں کو شر کہاجاتا ہے۔

اب آپ قارئین سے وہ بات شیئر کرلوں جس کی وجہ سے رفاقت بھی یاد آیا، ہم جب بھی باہر نکلے۔ راستے میں جو بھی کالا ملا اس نے بڑی نرم مسکراہٹ سے رفاقت کے ساتھ ہیلو کی۔ حالانکہ تب کالے اور خصوصاً بروکلین والے خوف کی علامت تھے۔میرے استفسار پر رفاقت نے مجھے بتایا تھا کہ ان کو یہ دوستی بڑی محنت سے ملی ہے کہ ابتداء میں یہ حضرات غنڈہ گردی کرتے کہ راہ گیروں کو لوٹ لیتے تھے۔ میزبان کے مطابق انہوں نے بروکلین میں رہائش پذیر غیر مقامیوں سے رابطہ کیا، ان میں سے اکثریت پنجابی پاکستانی نژاد حضرات کی تھی ان سب نے باہمی مشاورت کی کہ رہنا ہے تو عزت سے گزارا کرنا ہوگا چنانچہ خاص قسم کے ڈنڈے تیار کرلئے گئے اور جب بھی کسی پاکستانی یا غیر امریکی فرد کے ساتھ کوئی سانحہ ہوا تو ڈنڈا بردار نوجوانوں کی ایک ٹولی نے ان کا تعاقب کرکے نہ صرف ٹھکائی کی بلکہ مال مسروقہ بھی واپس لیا اور یوں اس علاقہ میں مفاد باہم کے طور پر ایک ماحول بن گیا جس میں غنڈہ گردی (خصوصاً پاکستان نژاد پنجابیوں سے) کا خاتمہ ہو گیا اور ماحول دوستانہ بن گیا اسی وجہ سے میری حیرت دور ہوئی کہ رفاقت جدھر سے بھی گزرتا اس کی سب سے ہیلو ہائے ہوتی رہی اور یوں مرحوم نے سارا وقت بڑے اچھے ماحول میں گزارا، وہ جب بھی لاہور آیا، کسی نہ کسی تقریب میں ملاقات ہو جاتی اور وہ اپنے دھیمے لہجے اور موہنی مسکراہٹ ہی سے ملتا تھا۔ نیویارک کے دوران قیام ٹوئن ٹاور سے لے کر نیویارک کے تمام معروف علاقوں کی سیر بھی اسی نے کرائی۔

یہ سب یوں عرض کیا کہ آج کے حالات سنتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی ترقی کے ساتھ ساتھ تعصب نے بھی چھلانگ لگائی۔ ٹرمپ کی صدارت میں تو کھلم کھلا سفید چمڑی کی برتری کی بات کی جاتی ہے اگرچہ نیویارک کے میئر کے لئے ممدانی کی فتح نے یہ ثابت کیا کہ تارکین وطن بھی اب مٹی کے مادھو نہیں،ان کو اپنی حیثیت کا احساس ہے اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی رنگ و نسل کے تعصب کو اُبھارا اور کیش کیا ہے لیکن وہ اب بھی بھارت کے مودی کی پاسنگ نہیں کہ جس نے صدیوں سے رہنے والے خاندانوں کے افراد کو بھی غیر ملکی قرار دے دیا ہے۔ دعا ہے اللہ رفاقت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

اب بات اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر بابر اعظم اتنا ہی ناپسندیدہ ہو چکا کہ اسے قومی ٹیم میں شامل کرکے بھی کھلانا مقصو دنہیں کہ اب پھر پی ایس ایل ٹرافی جیت کر بھی وہ زلمی ہے اور بنگلہ دیش کے تحت بنگلہ دیش میں پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل رہا، میں تو کہتا ہوں کہ اگر بابراعظم ہدف ہی ہے تو پھر اسے ٹیم میں شامل ہی نہ کریں اور اسے بھی محمد عامر کی طرح فری لانس کر دیں کہ وہ قومی ٹیم میں شرکت نہ کرے اور فری لانس کمائی کرے، اسے باہر نکلوانے والوں کی بھی تسلی ہو جائے گی۔