پاکستان میں صحافت آج جس بحران سے گزر رہی ہے، اس کی ذمہ داری صرف حکومت، میڈیا مالکان یا سیاسی جماعتوں پر ڈال کر ہم بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ صحافتی برادری کو بھی اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ کبھی ملک بھر کے صحافی ایک مضبوط پلیٹ فارم پر جمع تھے، آج صحافتی قیادت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے۔ PFUJ ہو یا مختلف پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس، ہر سطح پر تقسیم نے اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب صحافی اپنی صفوں میں متحد نہیں ہوں گے تو آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے روزگار اور ان کے حقوق کیلئے مؤثر آواز کون بنے گا؟
پاکستان میں صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ جمہوری معاشرے کا ایک اہم ستون ہے۔ ایک مضبوط اور آزاد میڈیا عوام اور اقتدار کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ صحافت طاقتور سے سوال کرتی ہے، کمزور کی آواز بنتی ہے اور معاشرے کو اس کا اصل چہرہ دکھاتی ہے لیکن آج وہی صحافت خود کئی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔
معاشی مشکلات اپنی جگہ، سیاسی دباؤ اپنی جگہ، ریاستی پابندیاں اپنی جگہ اور میڈیا مالکان کے مسائل اپنی جگہ؛ لیکن ایک حقیقت ایسی بھی ہے جس پر صحافتی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگاہم خود کتنے متحد ہیں؟
پاکستان میں صحافتی جدوجہد کی تاریخ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، PFUJ، ایک مرکزی اور مؤثر ادارے کے طور پر سامنے آئی۔ اس کا بنیادی مقصد ملک بھر کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ تھا۔ صحافیوں نے آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور آزادیٔ صحافت کے لیے قربانیاں دیں۔لیکن وقت کے ساتھ یہ اتحاد تقسیم ہوتا گیا۔
1977 کے بعد PFUJ کے اندر اختلافات نے باقاعدہ دھڑے بندی کی شکل اختیار کی اور PFUJ-Dastoor وجود میں آئی۔ بعد کے برسوں میں مختلف تنظیمی اور انتخابی تنازعات نے مزید دھڑوں کو جنم دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں کی مرکزی نمائندگی بھی مختلف گروپوں میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےاگر صحافیوں کی اپنی آواز ایک نہیں تو وہ دوسروں سے آزادیٔ اظہار اور اجتماعی حقوق کی ضمانت کیسے مانگ سکتے ہیں؟
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ انتخابات بھی ہونے چاہئیں، قیادت بھی تبدیل ہونی چاہیے اور مختلف نظریات بھی سامنے آنے چاہئیں۔ لیکن اختلاف اس وقت نقصان دہ بن جاتا ہے جب وہ مستقل گروپ بندی، ذاتی مفادات اور عہدوں کی سیاست میں تبدیل ہوجائے۔آج سب سے زیادہ نقصان عام صحافی کا ہو رہا ہے۔
ایک رپورٹر کی تنخواہ کئی کئی ماہ رک جاتی ہے۔ کسی میڈیا ادارے سے اچانک ملازمت ختم کردی جاتی ہے۔ کہیں کنٹریکٹ سسٹم نے مستقل ملازمت کی جگہ لے لی ہے۔ علاقائی اخبارات اور چھوٹے میڈیا ادارے مالی بحران کا شکار ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے آنے سے صحافت کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے، مگر صحافتی تنظیمیں اب بھی بہت سے معاملات میں روایتی تنظیمی سیاست سے باہر نہیں نکل سکیں۔
اس صورتحال میں صحافی کو سب سے زیادہ ضرورت ایک مضبوط، غیر جانب دار اور متحد نمائندہ آواز کی ہے۔بدقسمتی سے آج اگر ایک صحافی کو مسئلہ درپیش ہو تو یہ سوال بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ کس یونین سے وابستہ ہے؟ کس گروپ کا حصہ ہے؟ کون سی قیادت اس کے ساتھ کھڑی ہوگی؟
یہ صورت حال صحافتی طاقت کو کم کرتی ہے۔حکومتیں بھی جانتی ہیں کہ متحد آواز کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن منتشر آوازوں کو الگ الگ سنبھالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافتی تنظیموں کی تقسیم بالآخر صرف تنظیمی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ آزادیٔ صحافت کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے۔
تاہم تمام ذمہ داری حکومت پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔صحافتی قیادت کو اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہماری تنظیمیں واقعی عام صحافی کی نمائندگی کر رہی ہیں یا ان کا بڑا وقت انتخابات، عہدوں اور باہمی اختلافات میں صرف ہورہا ہے؟
اگر کسی یونین کا بنیادی مقصد صحافی کے روزگار، تنخواہ، عزت، تحفظ اور آزادی کے لیے آواز اٹھانا ہے تو پھر قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے کارکن کے ساتھ کتنی مضبوطی سے کھڑی ہوتی ہے۔آج ہمیں ایک نئے صحافتی معاہدے کی ضرورت ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں تمام بڑی صحافتی تنظیمیں کم از کم بنیادی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کریں۔ اختلافات اپنی جگہ رہیں، مگر صحافیوں کے حقوق پر کوئی اختلاف نہ ہو۔
روزگار کا تحفظ، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی، آزادیٔ اظہار، صحافیوں کا قانونی تحفظ، ڈیجیٹل میڈیا کے کارکنوں کے حقوق، خواتین صحافیوں کا تحفظ، علاقائی صحافیوں کے مسائل اور صحافتی تربیت—یہ سب ایسے معاملات ہیں جن پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنایا جاسکتا ہے۔
آج کے نوجوان صحافی کو صرف پریس کارڈ نہیں چاہیے۔ اسے جدید صحافت کی تربیت چاہیے۔ اسے ڈیجیٹل رپورٹنگ، فیک نیوز کی شناخت، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا جرنلزم اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تربیت چاہیے۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ اگر وہ حق اور سچ کے لیے کھڑا ہوگا تو اس کی تنظیم اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اور سب سے بڑھ کر اسے مستقبل کا تحفظ چاہیے۔صحافت کو بچانے کیلئے صرف حکومت سے مطالبات کافی نہیں۔ ہمیں اپنے اداروں کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
میری نظر میں اب وقت آگیا ہے کہ تمام بڑی صحافتی تنظیمیں ایک قومی صحافتی اتحاد کے قیام پر غور کریں۔ یہ اتحاد کسی ایک گروپ کی قیادت میں نہیں بلکہ مشترکہ مشاورت سے قائم ہو۔ اس کا مقصد کسی دھڑے کو ختم کرنا نہیں بلکہ بنیادی صحافتی حقوق پر ایک مشترکہ آواز پیدا کرنا ہو۔
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ کتنی یونینیں ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان یونینوں کی مشترکہ آواز کتنی مضبوط ہے۔
اگر صحافی ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں، اگر قیادت عہدوں کے بجائے کارکن کو ترجیح دے، اگر اختلاف ذاتی دشمنی کے بجائے اصولی اختلاف تک محدود رہے اور اگر صحافتی تنظیمیں اپنے بنیادی مقصد کی طرف واپس آجائیں تو پاکستان کی صحافت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسل کو تقسیم شدہ صحافت دینا چاہتے ہیں یا ایک مضبوط، باوقار اور آزاد صحافتی ادارہ؟
کیونکہ صحافت کمزور ہوگی تو جمہوریت کمزور ہوگی، صحافی تقسیم ہوں گے تو ان کی آواز کمزور ہوگی، اور جب آواز کمزور ہوگی تو طاقتور سے سوال پوچھنے والا کوئی نہیں رہے گا۔صحافت کو بچانے کے لیے صحافیوں کو پہلے اپنی تقسیم سے نکلنا ہوگا۔ کیونکہ بکھری ہوئی آواز شاید خبر تو بن سکتی ہے، مگر تاریخ نہیں بنا سکتی۔آج ضرورت ایک دوسرے کو شکست دینے کی نہیں، صحافت کو شکست سے بچانے کی ہے۔یہ وقت دھڑوں کی گنتی کا نہیں، اتحاد کی ضرورت کو سمجھنے کا ہے۔

