واشنگٹن :کینیڈا کے خلاف تجارتی جنگ میں ری پبلکنز کی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت

واشنگٹن (سی بی سی نیوز)امریکی کانگریس کے ری پبلکن ارکان نے کینیڈا کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے تجارتی مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا الزام وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت پر عائد کیا ہے۔

بدھ کو درجنوں ری پبلکن ارکانِ ایوانِ نمائندگان نے کیپیٹل ہل میں امریکی صدر کے محصولات سے متعلق امور کے نگران امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے بند کمرے میں ملاقات کی۔

اگرچہ بعض ری پبلکن ارکان کو نجی طور پر خدشہ ہے کہ مہنگے محصولات میں مزید اضافہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات کو متاثر کرسکتا ہے، تاہم گریر سے ملاقات کے بعد سی بی سی نیوز سے گفتگو کرنے والے بیشتر ارکان نے صدر ٹرمپ کی تجارتی حکمتِ عملی کی حمایت کی۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن رکن کانگریس آگسٹ پلگر نے امریکا میں صنعتی ملازمتیں واپس لانے پر ٹرمپ کو سراہتے ہوئے تجارتی جنگ کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیا۔

انہوں نے سی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی جنگ ہے جو کینیڈا نے شروع کر رکھی ہے، کینیڈین حکومت کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے اور اس نے طویل عرصے سے امریکا کا فائدہ اٹھایا ہے۔

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے کانگریس رکن برائن ماسٹ نے بھی تجارتی مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہترین اور زیادہ فراخدلانہ معاہدے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم اس نے اسے مسترد کردیا۔

ملاقات کے بعد امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کینیڈا کے ساتھ مذاکرات کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کینیڈا سے متعلق اپنے مؤقف میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا اور ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا کہ کینیڈا طویل عرصے سے تجارت کے معاملے میں امریکا کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی بینکوں کو ملک میں کام کرنے کے حوالے سے عائد پابندیاں ان کی سب سے بڑی شکایات میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنے تمام بڑے بینک امریکا میں چلا رہا ہے اور امریکا ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جبکہ وہ کینیڈا میں اس کے مقابلے میں کہیں کم آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے واحد ری پبلکن رکن کانگریس رالف نارمن نے تجارتی جنگ کے ممکنہ سیاسی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ریاست میں عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مجموعی اخراجات میں اضافہ ہے، جس میں تجارتی جنگ، محصولات، مکانات اور ایندھن کی قیمتیں شامل ہیں۔

نارمن کے مطابق گریر نے ارکان کو یقین دلایا کہ ہر ریاست پر محصولات کے اثرات سے متعلق ان کے تحفظات پر غور کیا جائے گا۔

اس کے باوجود رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ کی عائد کردہ محصولات کو عوام میں غیر مقبول قرار دیے جانے کے باوجود کانگریس کے دیگر ری پبلکن ارکان نے کینیڈا کے خلاف صدر کی تجارتی پالیسی کا دفاع کیا۔

میسوری سے تعلق رکھنے والے کانگریس رکن ایرک برلسن نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے آئندہ ہفتے امریکی برآمدات پر جوابی محصولات عائد کرنا دانش مندانہ اقدام نہیں ہوگا۔ ان کے بقول امریکا واضح طور پر کینیڈا کے مقابلے میں معاشی طاقت ہے اور کینیڈا کو امریکا کی زیادہ ضرورت ہے۔