واشنگٹن:ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کا نام ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز

واشنگٹن(رائٹرز، اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی ایک اور اہم جغرافیائی گزرگاہ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دے دی، اس بار ان کے نشانے پر آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز دی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب امریکا کے کنٹرول میں ہے اور سوال کیا کہ کیوں نہ اس کا نام تبدیل کرکے ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھ دیا جائے۔

امریکی صدر نے لکھا کہ اب جبکہ یہ امریکا کے کنٹرول میں ہے، کیا آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھ دینا چاہیے؟ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی طرح یہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ ’ہاٹ‘ ہوگا۔

ٹرمپ کی تجویز کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی خلیج کا ایک نقشہ سوشل میڈیا پر جاری کیا، جس میں آبنائے ہرمز کیلئے ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام استعمال کیا گیا اور ساتھ لکھا گیا کہ یہ نام اچھا لگتا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے باعث یہ آبی گزرگاہ عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور گزشتہ ماہ اسے ’امریکی علاقہ‘ بھی قرار دے چکے ہیں، تاہم ایران ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں۔ 27 اگست کو انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے امریکا میں وفاقی استعمال کیلئے لیک اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم اس حکم کا اطلاق کینیڈا یا بین الاقوامی اداروں کے نام کے استعمال پر نہیں ہوتا اور کینیڈا بدستور اسے لیک اونٹاریو ہی قرار دیتا ہے۔