صدر ہی کسی بھی معاہدے کے حتمی مجاز ہوتے ہیں:وائٹ ہاؤس

واشنگٹن (رائٹرز)وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ کیے تو امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدہ حتمی شکل نہیں پا سکے گا۔

وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کی اہمیت پر زور دے چکے ہیں، اور یہی پالیسی اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ بدھ کے روز طے پانے والے سول جوہری معاہدے کی تحریری دستاویز میں ابراہیمی معاہدوں سے متعلق شرط کیوں شامل نہیں تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر ہی کسی بھی معاہدے کی حتمی منظوری دینے کے مجاز ہوتے ہیں اور صدر نے واضح کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگا۔

کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر سعودی قیادت سے بات چیت جاری رکھیں گے، تاہم نئی شرط کے اعلان کے بعد ابھی تک صدر کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اس موضوع پر براہِ راست گفتگو نہیں ہوئی۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہیں ہوتا تو امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔