آج سے تیس برس پہلے جب عمران خان کا طوطی بولتا تھا اس کی شہرت کا سورج کرکٹ کی دنیا کے آسمان پر چمک رہا تھا۔ ان دنوں عمران خان میانوالی کے علاقے میں شکار کی کسی مہم پر گیا ہوا تھا۔اس کے جانے کی خبر اخبارات میں چھپ گئی تھی۔ اس کے بعد لوگوں میں بہت تجسس تھا کہ عمران خان کیا شکار کرکے لاتا ہے۔ آٹھ دس دن بعد عمران خان واپس آیا۔ میں نے فون کرکے خواہش کا اظہار کیا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ آجاؤ ایک گھنٹے تک آجاؤ۔
ایک گھنٹے تک میں چلا گیا، میرے ساتھ عبدالرؤف تھے، جو ان دنوں جنگ اخبار کے سنڈے میگز ین میں کام کرتے تھے۔ ہم دونوں جا کر عمران خان کے سادہ سے بلکہ اکرام اللہ نیازی مرحوم کا سادہ سا ڈرائنگ روم تھا، پرانے چمڑے کے صوفے پڑے ہوئے تھے۔ ہمیں مسز شوکت خانم مرحومہ نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا، استقبال کیا اور کہا کہ عمران خان ابھی نیچے نہیں آیا۔ پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد عمران خان نیچے آئے۔ گپ شپ ہوئی۔ میں نے شکار کے بارے میں پوچھا۔ وہ بتاتا رہا کہ میانوالی کے فلاں گاؤں گئے فلاں گاؤں گئے۔ فلاں جگہ وہ جانور مارا۔ میں نے خان صاحب نے کہا کہ مجھے کوئی تصویر تو دکھائیں۔
خان نے مجھے دیکھا کہ جیسے میں شک کر رہا ہوں۔ کیونکہ وہ اس وقت ہیرو آف ورلڈ تھے خیر وہ دو منٹ بعد اٹھے اور دو منٹ بعد ایک بچوں والی ایک البم لے کر آئے جس میں بیس پچیس شکار کی تصویریں تھیں۔ میں تصویریں دیکھنے لگا۔ عبدالرؤف صاحب عمران خان نے گپ شپ کرنے لگے۔ اسی گپ شپ کے دوران میں نے چار پانچ تصویریں نکال لیں اور انہیں میز پر رکھ دیا اور عمران خان کو بتا دیا کہ یہ تصاویر میں اپنے کلر پیج کیلئے لے کر جا رہا ہوں عمران خان مان گیا۔ ہم دفتر واپس آگئے۔
میں نے عمران خان سے گفتگو سے متعلق آرٹیکل لکھا اور عبدالرؤف نے اسی آرٹیکل میں اپنی گفتگو شامل کردی۔عمران خان کی بڑی تصاویر جس میں بندوق پکڑ ہوئی ہے آدھے صفحے کا کلر پیج پر آرٹیکل چھپ گیا جو کہ بہت زیادہ پڑھا گیا۔ جنگ کراچی، جنگ کوئٹہ، جنگ راولپنڈی، جنگ لندن ہر جگہ چھپا۔ سپورٹس آیڈیشن کا پیج ان چاروں ایڈیشن میں چھپا اور پڑھا گیا۔ بات آئی گئی۔ یہ اس کے شکار کا ایک قصہ تھا۔ مجھے اس کے شکار کے اس قصے کا بہت زیادہ فیڈ بیک ملا کچھ خطوط کے ذریعے اور کچھ ٹیلی فون کے ذریعے ملا۔

