پیرس (اے ایف پی) فرانس کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق، افغانستان سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ ایک شہری کو داعش خراساں نامی دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
قومی انسدادِ دہشت گردی پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ گرفتار شخص پر دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق، مشتبہ شخص کو گزشتہ ہفتے لیون (Lyon) شہر سے گرفتار کیا گیا اور اسے عدالتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی یونٹ کا کہنا ہے کہ ملزم پر شبہ ہے کہ وہ داعش خراساں کے ساتھ رابطے میں تھا اور تنظیم کے لیے تشہیری مہمات اور مالی مدد میں کردار ادا کر رہا تھا۔تحقیقات کے مطابق، وہ تنظیم کے پیغامات کا ترجمہ و ترسیل بھی کرتا تھا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہا پسندانہ مواد پھیلاتا تھا۔
داعش خراساں افغانستان میں سرگرم داعش کا ذیلی گروہ ہے، جو پاکستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں بشمول ازبکستان میں بھی کارروائیاں کرتا ہے۔یہ گروہ افغانستان اور روس میں متعدد خونریز حملوں میں ملوث رہا ہے، جن میں مارچ 2024 میں ماسکو کے کنسرٹ ہال پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فرانسیسی روزنامے ’لو پریزیاں‘ کے مطابق، گرفتار افغان شہری چند سال قبل فرانس آیا تھا اور اسے ڈی جی ایس آئی (DGSI) یعنی فرانس کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکاروں نے لیون کے ایک انتظامی حراستی مرکز سے حراست میں لیا۔
اخبار کے مطابق، مشتبہ شخص پہلے ہی دہشت گردی کی ترویج کے شبے میں زیرِ تفتیش تھا اور وہ ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ پروپیگنڈا کی تدوین اور تشہیر کر رہا تھا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران، فرانس متعدد بار انتہا پسند حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، جن میں بیشتر حملے داعش یا القاعدہ سے متاثرہ عناصر کی جانب سے کیے گئے۔

