فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایران جائینگے، دورہ امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے: ایران

تہران (اے ایف پی/نیوز ڈیسک): ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج وفد کے ہمراہ تہران کا دورہ کریں گے، جسے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستانی حکومت کے دو ذرائع نے بھی برطانوی خبررساں ادارے کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کی تصدیق کی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطہ جاری ہے، جبکہ دوسرے ذریعے نے بتایا کہ ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ صورتحال بھی زیر بحث آئے گی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی قیادت سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امن کوششوں، امریکی صدر ٹرمپ کی وارننگ، مکہ دفاعی معاہدے کے بعد کی صورتحال اور حوثی جنگجوؤں کے حملوں سمیت دیگر اہم علاقائی معاملات پر بات کریں گے۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایرانی پارلیمانی کمیٹی نے ایک مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے ایران کو ایک اور وینزویلا بنانے کی کوشش کی، تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور ایران ایسی طاقت بن کر ابھرا جس نے مزاحمت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی جنگ میں شامل ہونے والے ممالک کو بھی تہران اپنا دشمن تصور کرے گا۔ایرانی وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا کہ ایران دھمکیوں اور معاشی پابندیوں سے خوفزدہ نہیں اور موجودہ صورتحال پر قابو پالے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقتصادی دھمکیوں کو ’’پرانی فلم کی دوبارہ نمائش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس فلم کو زبانی یاد کرچکا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکی واقعی مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا میدانِ جنگ میں ناکام ہوچکا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک منجمد خارجہ پالیسی منجمد معیشت پیدا کرتی ہے۔‘‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور دیگر فریقوں کے درمیان کشیدگی، اقتصادی پابندیوں اور سکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور براہِ راست رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دیتا رہا ہے۔