نئے صوبے نہیں پہلے نئے جذبے

وی لاگروں کی آنکھیں ہمیں دکھا رہی ہیں۔ پاکستان اور خوبصورت ہو رہا ہے۔ پاک سرزمین اور جوان ہو رہی ہے۔ بلوچستان، سندھ ،پنجاب ،خیبر پختون خوا،گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کا حسن نکھر رہا ہے ۔دھرتی ماں اپنے بیٹوں کے تحفظ اور پرورش کیلئے پرعزم ہے ۔نئے صوبوں کی نہیں نئے جذبوں اور نئے عمرانی معاہدوں کی ضرورت ہے۔ملکی معاملات کو عالمی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔

حکمرانوں کی آنکھوں سے اگردیکھیں تو پاکستان آف روڈ ہو رہا ہے۔ راستے اور غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔ پل ٹوٹ رہے ہیں۔رابطے کمزور ہو رہے ہیں ۔ ناکے سخت ہو رہے ہیں ۔

ہماراوجدان پھر ہمیں سمجھاتا ہے کہ یہ ٹریفک جام ،مایوسی اور بے بسی کے مناظر وقتی ہوتے ہیں دائمی نہیں ، ریاست دائمی ہے،عوام مسلسل ہیں۔ پاکستان کی ریاست تو ان ناکوں کی عادی ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا واہگہ سے گوادر تک بہت سہارا دیتا ہے ۔اسکرین پر جھلملاتے ستارے ہمارے نوجوانوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ پاکستانی نوجوان ہم اخباری بوڑھوں کی طرح بڑبڑاتے نہیں ہیں نہ دل ہی دل میں کڑھتے ہیں۔ وہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔ وہ تو بہتے دریا ہیں۔ دریاؤں نے کبھی رکنا پسند نہیں کیا۔ناکہ ہو تو وہ اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ آس پاس کی زمینوں کو سیراب کرنے کی دھن ہوتی ہے۔ انہیں ناکوں سے خوف نہیں آتا ۔صرف اپنے کنارے آباد بستیوں میں رہتے انسانوں کی فلاح کی فکر ہوتی ہے کہ اگر وہ رک گئے تو گندم کیسے کاشت ہوگی۔ چاول کیسے سر اٹھائیں گے۔ کپاس کیسے پھوٹے گی۔ گنا کیسے سربلند ہوگا۔ سبزیاں کیسے لذت پائیں گی۔ دریاؤں کو اپنی منزل کی بھی پوری خبر ہوتی ہے۔ ان کی منزل کا تعین ہو چکا ہوتا ہے ۔منزل بھی ان کا انتظار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں تین ہزار میل تک محبت کرنے والا دریائے سندھ عطا کیا ہوا ہے۔ جو نوکیلی چٹانوں بھاری پتھروں میں سے اپنا راستہ بناتا ہوا میدانوں میں اترتا ہے۔ یہ موجودہ پاکستان کی مرکزی رگ ہے ۔یہ دوسرے دریاؤں کو اپنے اندر سموتا اپنے ساتھ لے کر چلتا رہتا ہے۔ جوانی میں میری خواہش تھی کہ کسی طرح دریائے سندھ کے آغاز سے سفر شروع کیا جائے اور اس کے چمکتے پانیوں پر کسی بڑی کشتی میں اس مقام تک پہنچا جائے جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے ہمارے کراچی سے صرف 150 میل دور کھار و چھان میں ۔مجھے یاد پڑتا ہے جاوید جبار صاحب نے اپنے عہد شباب میں شاید دریائے سندھ پر سفر کی کوشش کی تھی۔جے جے آئیڈیاز رکھنے والے پاکستانی ہیں۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں، نواسےنواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ ان کے سوالات کے جواب دینے کے لمحات ۔آج اگر موقع ملے تو ان سےکھار و چھان پر بات کریں۔ کبھی جانے کو دل چاہا ہے۔ ہر انسان کے ذہن میں تو یہ خواہش ہوتی ہے کہ دریا کو سمندر میں گرتا دیکھے۔
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
قطرہ دریا میں فنا ہوتا ہے۔ عشرت حاصل کر لیتا ہے پھر دریا بھی دوام حاصل کرنےکیلئے سمندر میں گرتا ہے ۔دریا ہمارے صدیوں کے ساتھی ہیں لیکن ہم چند ڈالروں کیلئے ان کے راستے روکتے ہیں ۔ان پر ناکے لگاتے ہیں۔ اس لیے یہ برہم ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک روز ایسا طوفانی سیلاب آتا ہےجو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ خاص طور پر جن عمارتوں کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں ۔جو آشیانے شاخ نازک پر بنے ہوتے ہیں دریا برد ہو جاتے ہیں۔ترقی کرنے والےملک دریاؤں سے پیار کرتے ہیں۔ جواب میں دریا بھی ان سے پیار کرتے ہیں۔ دریا کے فنا ہونے کے مقام پر یہ ملک تفریح گاہیں بناتے ہیں ۔کسی وقت کھارو چھان پر آپ کو لے کر چلیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ سندھ کے محکمہ سیاحت نے وہاں کوئی پارک کوئی قابل دید عمارات بنائی ہیں یا نہیں ۔کیا وہاں رات گزارنے کیلئے کوئی اہتمام ہے جہاں رات کی خاموشی میں دریا کی سسکیاںاور سمندر کی مستیاں سنی جاسکیں ۔

سمندر دریا ساحل انسان کے ازلی ساتھی ہیں۔ قدرت نے ہمیں ان وسائل سے کھلے دل سے نوازا ہے۔ سمندری اور دریائی نعمتوں کی قدر اگر ہم جان لیں تو ہمیں واشنگٹن ریاض بیجنگ اور استنبول نہ جانا پڑے نہ دمشق ہماری طرف آئے۔ راجدھانی میں ایک رات بہت ہل چل رہی۔ روٹ لگ گیا تھا۔ سڑکوں پر گلاب پاشی کی گئی جبر ہار گیا صبر جیت گیا۔ واہگہ سے گوادر تک سب تجسس رکھنے والے پاکستانیوں نے دیکھا میڈیا ہاؤس، اخبارات ،ٹی وی چینل پیچھے رہ گئے۔ خبر بہت آگے نکل گئی۔ ڈیجیٹل دنیا میں اگر گشت کریں۔ قدم قدم دیکھنے کو ملتا ہے کہ معاشرے آگے نکل گئے ہیں ۔حکومتیں پیچھے رہ گئی ہیں ۔ حکمران سب سہولتیں ان گنت حکام رکھتے ہوئے بھی کسی خوف میں رہتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیا میں اور مسلمان ملکوں میں۔ انہیں یورپ اور امریکہ اپنے جدید ترین ہتھیاروں کی فضیلتیں بیان کر کے اور زیادہ خوفزدہ کرتے ہیں۔ ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاںاسی طرح منافع کماتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ہلاکت خیز ہتھیاروں کا سب سے زیادہ استعمال مظلوم بے زمین فلسطینیوں پر ہوتا ہے ۔یہود و نصاریٰ ان کی نسل معدوم کر رہے ہیں ۔دنیا کے قدیم ترین الجھے ہوئے مسئلے حل ہو رہے ہیں لیکن فلسطین اور کشمیر کے معاملات 1948ءسے جوں کے توں ہیں۔کیا اس لئے کہ دونوں لا الہ کے وارث ہیں ۔ 21ویں صدی اپنے نئے نئے افکار سیاسی نظام علمی منصوبے نئی ایجادات لے کر آرہی ہے۔ ہر روز نئی ایپس متعارف ہو رہی ہیں لیکن کشمیر اور فلسطین کی قسمت نہیں بدل رہی ۔

پرانے نعرے لگائے جا رہے ہیں مگر وہ بے معنی ہو چکے ہیں۔ نئے زمانے کے نئے چیلنج ہم سے نئے نعروں کا تقاضا کر رہے ہیں۔ پرانی سیاسی اصطلاحات اپنا مفہوم کھو چکی ہیں۔ ان کے استعمال کی مدت گزر گئی ہے۔ نئے بلاک بن رہے ہیں ۔نئے اتحادوں کی صورت گری ہو رہی ہے مگر ہمارے ہاں وہی ازکار رفتہ اصطلاحات کا استعمال زوروں پر ہے۔وزیراعظم نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ اپوزیشن بھی ایک دوسرے کو چائے پانی اور پرتکلف کھانوں پہ بلا رہی ہے۔ جی بھر کے شکم سیری ہوتی ہے۔ پہلے اتنا تکلف ہوتا تھا کہ قراردادیں منظور کی جاتی تھیں ۔اب صرف ٹویٹر یا میڈیا سے بات چیت پر گزارہ ہے۔مذاکرات کا ایجنڈا بننےسے پہلے ہی حکمرانوں کو کہیں سے دعوت آ جاتی ہے۔ وہ سالم جہاز لے کر روانہ ہو جاتے ہیں۔ دعوے دونوں طرف سے گزشتہ صدیوں کی طرح ہوتے ہیں مگر ان غباروں کی ہوا اڑنے سے پہلے ہی نکل جاتی ہے۔ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ ہمیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہے کہ اگر کسی ریاست کی ترجیحات وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوں گی تو وقت اس قوم کو تڑپاتا رہے گا ۔
ایک دن جبر ہار جاتا ہے۔ صبر غالب آ جاتا ہے ۔
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
درد بھی ایک دریا ہے جو ہزاروں فٹ بلند اسکردو سے دالبندین تک بہہ رہا ہے۔ اپنے بیٹوں کو سرشار کر رہا ہے۔بیٹےپر عزم ہیں۔