کسی بھی صوبائی وزیر کا بیرون ملک دورہ اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے جب اس کا مقصد محض سرکاری ملاقاتیں، تقریبات میں شرکت یا رسمی روابط تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے ذریعے سرمایہ کاری، تجارت، صنعتی تعاون اور معاشی روابط کے نئے دروازے کھولنے کی کوشش کی جائے، پنجاب کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کا دورۂ کینیڈا بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس کا بنیادی مقصد پنجاب میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنا، کینیڈین سرمایہ کاروں کو پنجاب کے صنعتی شعبے کی طرف متوجہ کرنا اور اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی معاشی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی دعوت دینا تھا۔ کینیڈا پنجاب کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی مضبوط اور متحرک ہے، اس کمیونٹی میں کاروباری افراد، صنعت کار، ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، پروفیشنلز اور مختلف شعبوں سے وابستہ کامیاب پاکستانی موجود ہیں، اگر اس انسانی اور معاشی سرمائے کو پنجاب کی صنعتی ترقی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں ایک مضبوط معاشی پل قائم ہو سکتا ہے۔
کیلگری کینیڈا کے معروف بزنس مین عرفان اکرم وڑائچ اور خورشید عالم سندھو کی طرف سے مسسی ساگا ٹورنٹو میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک عشایئے میں صوبائی وزیر نے کینیڈین سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے خصوصی اقتصادی زونز کی سہولتوں کو بھی اجاگر کیا، پنجاب کے اسپیشل اکنامک زونز میں عالمی معیار کا صنعتی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاروں کے لیے مختلف سہولتیں اور خصوصی مراعات موجود ہیں، ان زونز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دس سال تک انکم ٹیکس کی چھوٹ اور ایک مرتبہ ڈیوٹی فری مشینری درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے،یہ مراعات یقیناً سرمایہ کاروں کے لیے کشش رکھتی ہیں، لیکن عالمی سرمایہ کار صرف ٹیکس چھوٹ اور مراعات نہیں دیکھتا، وہ اس سے آگے جا کر پالیسی کا تسلسل، کاروباری ماحول، بجلی اور گیس کی دستیابی، زمین کے حصول کا طریقہ، سرکاری اداروں کی رفتار، قانونی تحفظ، ٹیکس نظام اور سرمایہ واپس لے جانے کی سہولت جیسے معاملات کا بھی جائزہ لیتا ہے، اس لیے پنجاب کے لیے اصل چیلنج صرف سرمایہ کاری کی دعوت دینا نہیں بلکہ ایسا ماحول برقرار رکھنا ہے جہاں سرمایہ کار ایک مرتبہ آنے کے بعد دوبارہ سرمایہ کاری کرنے پر بھی آمادہ ہو۔ چوہدری شافع حسین کا کینیڈا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پیغام اپنی جگہ اہم ، لیکن اس پیغام کو پنجاب میں عملی سہولت کاری کے ایک مؤثر نظام کے ساتھ جوڑنا بھی ضروری ہے، اگر ایک کینیڈین پاکستانی صنعت کار پنجاب میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے مختلف محکموں کے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں بلکہ اسے ایک ون ونڈو نظام کے ذریعے زمین، اجازت ناموں، بجلی، گیس، ٹیکس اور دیگر معاملات میں سہولت فراہم کی جائے۔چوہدری شافع حسین کے دورے کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے صرف پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ کینیڈا کے سرکاری اور تجارتی حلقوں سے بھی روابط قائم کیے، ٹورنٹو میں کینیڈا کے مختلف وزراء سے ملاقاتیں، کینیڈین سرمایہ کاروں، سرکاری حکام اور دوسری تنظیموں سے ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پنجاب کینیڈا کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض کمیونٹی روابط سے آگے بڑھا کر ادارہ جاتی اور تجارتی سطح پر لے جانے کی خواہش رکھتا ہے۔
کینیڈا کی زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ایگرو ٹیکنالوجی، کینولا، مشینری، آئی ٹی، تعلیم اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی جیسے شعبے پنجاب کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتے ہیں، پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے اور اگر کینیڈین زرعی ٹیکنالوجی، جدید بیج، فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور زرعی مشینری کے تجربات پاکستان منتقل ہوں تو اس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ کسان کی آمدن اور زرعی برآمدات میں بھی بہتری آ سکتی ہے اور اگر پنجاب میں باقاعدگی سے بین الاقوامی سطح کی صنعتی اور تجارتی نمائشیں منعقد کی جائیں اور کینیڈین کاروباری اداروں کو ان میں شریک کیا جائے تو پنجاب کی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
چوہدری شافع حسین کے دورے کا سیاسی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان مسلم لیگ کی کینیڈا تنظیم اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ان کا استقبال اس بات کی علامت تھا کہ بیرون ملک سیاسی جماعتوں کی تنظیمیں بھی پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو برقرار رکھتی ہیں۔ صوبائی وزیر نے سیاسی کارکنوں کو پارٹی کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کی تجاویز کو اہمیت دینے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کینیڈا میں جو سیاسی پودا لگایا تھا، اسے تناور درخت بنایا جائے گا،تاہم سیاست سے بالاتر ہو کر اس دورے کا سب سے اہم پہلو معاشی سفارت کاری ہے۔ آج دنیا میں صوبے اور شہر بھی عالمی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ سرمایہ کار اس جگہ جاتا ہے جہاں اسے بہتر انفراسٹرکچر، آسان قوانین، تیز فیصلے اور قابل اعتماد حکومت ملے۔ پنجاب کو بھی عالمی سرمایہ کاری کے لیے اسی معیار پر خود کو پیش کرنا ہوگا،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے سے تعلق رکھنے والے کسی صوبائی وزیر کا اس نوعیت کا بھرپور دورہ، جس میں سرکاری حکام، کینیڈین سرمایہ کاروں، تجارتی تنظیموں، زرعی شعبے کے نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی کے منتخب افراد سے ملاقاتیں شامل ہوں، ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دورۂ کینیڈا سے کتنے سرمایہ کار پنجاب آئیں گے؟ کتنے مشترکہ منصوبے شروع ہوں گے؟ کتنی کینیڈین کمپنیاں پنجاب کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں گی؟ کتنی پاکستانی مصنوعات کینیڈین مارکیٹ تک پہنچیں گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملاقاتوں کے دوران سامنے آنے والی تجاویز پر کتنی تیزی سے عمل ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات ہی اس دورے کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوں گے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تجاویز کو صرف تقاریر اور ملاقاتوں کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک باقاعدہ پالیسی فریم ورک میں شامل کیا جائے، کینیڈا میں موجود کامیاب پاکستانی کاروباری افراد کے لیے پنجاب میں ایک مستقل سرمایہ کاری سہولت مرکز قائم کیا جا سکتا ہے، جو ان کے مسائل کو براہ راست متعلقہ محکموں تک پہنچائے اور سرمایہ کاری کے ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کرے۔
چوہدری شافع حسین کا دورۂ کینیڈا اسی معاشی شراکت داری کی جانب ایک قدم ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹورنٹو میں ہونے والی ملاقاتوں، سرمایہ کاری کی دعوتوں اور کیے گئے وعدوں کو لاہور میں عملی فیصلوں میں تبدیل کیا جائے، کیونکہ بیرون ملک دوروں کی کامیابی استقبال کی گرمی، تقریروں کی گونج یا ملاقاتوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نتیجے میں وطن واپس آ کر کتنے نئے دروازے کھولے گئے،اگر پنجاب کینیڈا میں موجود اپنے لاکھوں پاکستانیوں کو حقیقی معاشی شراکت دار بنا لے، کینیڈین سرمایہ کاروں کے لیے عملی طور پر آسانیاں پیدا کرے اور سرمایہ کاری کے وعدوں کو منصوبوں میں تبدیل کرنے کی رفتار تیز کر دے تو چوہدری شافع حسین کا یہ دورہ محض ایک سرکاری دورہ نہیں رہے گا بلکہ پنجاب کی معاشی سفارت کاری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

