لندن( بی بی سی، رائٹرز)برطانیہ کے شہر ساؤتھ پورٹ میں جولائی 2024 میں پیش آنے والے تین معصوم بچیوں کے قتل کے واقعے کی 700 صفحات پر مشتمل پبلک انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
انکوائری کے سربراہ سر ایڈرین فل فورڈ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملہ آور کے والدین اور سرکاری ادارے بروقت کارروائی کرتے تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا اور اسے روکا جانا چاہیے تھا۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور، جو واقعے کے وقت 17 سال کا تھا، نے ڈانس کلاس پر حملہ کر کے بچوں پر چاقو سے وار کیے، جس کے نتیجے میں تین بچیاں جاں بحق جبکہ 8 بچے اور 2 بالغ افراد زخمی ہوئے۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسکول، صحت کے کارکنان اور پولیس حملہ آور کے پرتشدد رویے کو بروقت پہچان لیتے تو اس افسوسناک واقعے سے بچا جا سکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور کسی ذہنی بیماری میں مبتلا نہیں تھا بلکہ کم عمری سے تشدد کا رجحان رکھتا تھا، جو زیادہ وقت بغیر نگرانی انٹرنیٹ استعمال کرنے سے بڑھتا گیا۔
مزید کہا گیا کہ والدین کو علم تھا کہ اس نے ہتھیار خریدے ہیں، اور حملے سے ایک ہفتہ قبل اس نے اپنے سابقہ اسکول پر حملے کی کوشش بھی کی تھی، جبکہ حملے کے دن چاقو کی خالی پیکنگ بھی دیکھی گئی تھی۔
انکوائری میں 67 سفارشات پیش کی گئی ہیں، جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر پہلے ہی ان سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد برطانیہ بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، مساجد اور پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پر حملے کیے گئے، پولیس نے 960 افراد کو گرفتار کیا جبکہ 544 کو سزائیں سنائی گئیں۔

