بنکاک:تھائی شہزادی بجراکیٹیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بنکاک( عرب میڈیا، اے پی پی)تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی صاحبزادی شہزادی بجرا کیٹیابھا مہیدول 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔عرب میڈیا اور اے پی پی کے مطابق شاہی بیورو آف دی رائل ہاؤس ہولڈ نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی گزشتہ شام بنکاک کے کنگ چولالونگ کارن میموریل اسپتال میں انتقال کر گئیں، جہاں وہ دسمبر 2022ء میں اچانک بے ہوش ہونے کے بعد سے زیر علاج تھیں۔

بیان کے مطابق وہ پیٹ کے انفیکشن میں مبتلا تھیں اور ان کی حالت مسلسل بگڑتی رہی، جس کے بعد شام 7 بج کر 48 منٹ پر ان کا انتقال ہوا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادی کے جسد خاکی کو بنکاک کے گرینڈ پیلس میں رکھا جائے گا جبکہ ان کی آخری رسومات شاہی روایات کے مطابق مکمل اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔

تھائی وزیر اعظم انوتن چرنویراکول نے شہزادی کو ’’تھائی لینڈ کا فخر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف، مساوات اور ہمدردی پر مبنی معاشرے کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

شہزادی بجراکیٹیابھا، جنہیں ’’پرنسس بھا‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، بادشاہ کی پہلی شادی سے واحد اولاد تھیں اور عوامی خدمت، عدالتی اصلاحات اور خواتین کے حقوق کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرتی رہی تھیں۔

ان کی ’’کملانگ جائی‘‘ مہم نے جیلوں میں قید خواتین کی بحالی اور رہائی کے بعد ان کی معاونت میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں 2010ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے خواتین قیدیوں کے حقوق سے متعلق ’’بینکاک رولز‘‘ منظور کیے تھے۔

شہزادی نے برطانیہ، تھائی لینڈ اور امریکا سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور کارنیل یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پراسیکیوٹر، سفارتکار اور آسٹریا میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی تھیں، جبکہ اقوام متحدہ کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہیں۔

مئی میں شاہی بیورو نے بتایا تھا کہ ان کی صحت مزید بگڑ گئی تھی اور وہ پھیپھڑوں اور گردوں کے افعال برقرار رکھنے کے لیے طبی آلات اور ادویات پر انحصار کر رہی تھیں۔ شاہی خاندان میں ان کا کردار نہایت اہم تصور کیا جاتا تھا، تاہم تخت نشینی کے حوالے سے کبھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔