گزشتہ شام الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے ٹکر سے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع میرے لئے خبر تھی کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا کسی نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی مرض کے حوالے سے یہ اطلاع میرے لئے تعجب کا باعث یوں تھی کہ اس سے پہلے کسی طرف سے ایسا بتایا نہیں گیا تھا اور خود امیرالعظیم نے بھی کبھی ظاہر نہ ہونے دیا وہ اس مرض سے لڑتے ہوئے بھی اپنے جماعتی اور ذاتی فرائض انجام دیتے چلے جا رہے تھے۔ امیرالعظیم سدا مسکرانے والی شخصیت تھے اور جب بھی ملتے خلوص ظاہر ہوتا وہ دھیمے لہجے میں بات کرتے تھے۔ جماعت اسلامی میں سیکرٹری جنرل کے اہم عہدے تک پہنچنا کوئی معمول بات نہیں، جماعتی نظام کے مطابق یہ ان کی محنت اور خدمت کا انعام تھا کہ وہ بتدریج مختلف مدارج سے ہوتے ہوئے اس مقام تک پہنچے تھے۔
امیرالعظیم بھی اکثر جماعتی رہنماﺅں کی طرح اپنے زمانہ تعلیم میں جمعیت طلباءسے وابستہ رہے اور طلباءتنظیم کی امارت بھی سنبھالی۔ میرا ان سے واسطہ روزنامہ امروز اور پھر روزنامہ مساوات کے دور سے رہا وہ بھی دوسرے عہدیداروں کی طرح میڈیا سے مثبت اوراچھے سلوک کے داعی اور اس پر عمل پیرا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں جب دائیں اور بائیں کا وہ مقابلہ تھا اور ایشیا سرخ ہے ایشیا سبز ہے کے نعرے لگتے تھے تو امیر العظیم دائیں بازو کے ہوتے ہوئے ہمارے دوستوں کے بالمقابل تھے اور یونیورسٹی انتخابات میں بھرپور حصہ لیتے تھے اس دوران بھی جب امروز اور مساوات کے حوالے سے بائیں بازو کے نظریات کے پرچار کا عمل تھا تو ہماری رپورٹنگ میں بھی نہ چاہتے ہوئے بائیں بازو کے نظریات کی حامل طلباءتنظیموں کے اثرات تھے، تاہم جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو اس کے شاہد خود امیر العظیم، حافظ ادریس محترم اور چودھری صفدر بھی تھے کہ رپورٹنگ کے حوالے سے ان کو شکائت نہیں تھی، البتہ ذاتی خیالات اور نظریات کے حوالے سے جمعیت علماءپاکستان کے بانی صدر حضرت علامہ ابوالحسناتؒ کے موئید ہونے کے باوجود بھٹو کی شخصیت کے سحر میں گرفتار تھا اور اس وجہ سے سیاسی راہیں جدا تھیں لیکن تعلق ناخوشگوار نہیں تھا۔
چودھری صفدر اور امیر العظیم نے جماعت اسلامی کے شعبہ نشرواشاعت میں بھی خدمات انجام دیں اور یوں میدان صحافت کا کارکن ہونے کے ناتے ان سے واسطہ رہا، تعلقات ہمیشہ اچھے رہے نہ تو انہوں نے کبھی میرے حوالے سے نظریاتی تعصب کا اظہار کیا اور نہ ہی کبھی میرا کوئی شکوہ ہوا۔
یہ بات طے ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا حمائتی اور ان کے سحر میں گرفتار ہونے کی وجہ سے میرا ووٹ ہمیشہ پیپلزپارٹی کے حق میں رہا، تاہم یہ بات قارئین کے لئے تعجب کا باعث نہ ہوتو حالیہ دور کے گزشتہ دونوں انتخابات میں میرا ووٹ محترم امیر العظیم کی نشست پر امانت ہی رہا کہ میری رہائش شادباغ سے تبدیل ہوئی تو آکر منصورہ کے پچھواڑے مصطفی ٹاﺅن وحدت روڈمیں آباد ہوا، امیر العظیم اس حلقہ سے جماعت کے امیدوار تھے۔ میں کسی بھی وجہ کا ذکر کئے بغیر یہ عرض کروں کہ جب جماعتی گروپ گھر گھر کنویسنگ کے لئے میری رہائش پر بھی تشریف لائے تو میں نے ان کی طرف سے کسی اپیل سے پہلے ہی عرض کردیا تھا کہ اس حلقہ میں امیرالعظیم واحد امیدوار ہیں جو میرے ووٹ کے حقدار ہوں گے جس کی وجہ ان سے ذاتی تعلق کے علاوہ حالات کی مایوسی بھی ہے۔
میں ذاتی تجربے کی بناءپر آج بھی حیران ہوتا ہوں کہ ایک بہترین منظم جماعت اور مخلص رہنماﺅں کے ہوتے ہوئے بھی جماعت اسلامی کو واحد جماعت کے طور پر عوامی حمائت حاصل نہیں ہوئی اگرچہ قاضی حسین احمد کا بطور امیر والا دور خاصا عوامی ہو گیا تھایہ چونکہ ایک الگ موضوع ہے اور اس پر جماعت اسلامی کی شوریٰ کو غور کرنا چاہیے میں تو اس وقت امیر العظیم کی شخصیت کے حوالے سے اعتراف کرتا ہوں کہ جن حضرات سے بھی واسطہ پڑا وہ ملنسار تھے اور ہیں، امیر العظےم کے حوالے سے کئی یادیں ہیں تاہم اس وقت اتنا عرض کرنا ہی مقصود ہے کہ وہ ایک ذہین، کل وقتی رہنما اور محنتی انسان تھے۔ ان کی ملنسار اور مسکرا کر بات کرنے کی عادت ہی نے کلمہ خیر کہنے کی توفیق دی ہے۔ اللہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور وارثان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

