کیاصرف صہیونی اور امریکی سفیدفام ہی انسان ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل بولنے کا ریکارڈ بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور روزانہ کوئی نہ کوئی دھمکی دیتے اور دہراتے رہتے ہیں، حال ہی میں ایران کی طرف سے اردن میں امریکہ اڈے پر ایرانی حملے سے دو امریکی مرے تو ڈونلڈ ٹرمپ باؤلے ہو گئے ان کے منہ سے کف نکلنے لگا اور ایران کو زبردست دھمکی دی کہ اب اگر کسی امریکی فوجی کی جان گئی تو ایران کا براحال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات جب کہی تو تب سے اب تک امریکی فضائیہ ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنائے ہوئے ہے، اب تو ذرائع رسل ورسائل اور آب رسانی کے مقامات بھی امریکی بمباری کی زد میں ہیں، اگرچہ ایران کے شہریوں کا جانی نقصان بہت زیادہ نہیں لیکن پھر بھی امریکہ کی نسبت اس کے شہریوں کی شہادتیں کئی گنا ہیں جبکہ معاشی نقصان کا تو اندازہ نہیں، اس سب کے باوجود ایرانی تاحال ڈٹے ہوئے ہیں اور جوابی طور پر خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں، امریکہ کی جنگ عظیم دوم کے بعد کی حکمت عملی ہے کہ خلیج کے تمام مسلم ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، یہاں امریکی بھاری اسلحہ کے علاوہ فوجی بھی تعینات ہیں۔ خود امریکی انتظامیہ کے مطابق ان اڈوں پر پچاس ہزار فوجی تعینات ہیں، ایرانی حملوں کے باعث گو اموات کم ہوئی ہیں لیکن زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد معقول ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک انسانیت کے بڑے علمبردار ہیں، انسان تو انسان وہ توکتے بلیوں پر مظالم نہیں سہتے۔چہ جائیکہ ان کے فوجی مریں، چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے چینی قابل فہم ہے لیکن یہ انسانیت کے علمبردارایسے ہیں کہ ان کو غزہ کے فلسطینیوں کی شہادتیں نظرنہیں آتیں، غزہ پر اسرائیلی بمباری میں ہزاروں فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ان میں معذور ہو جانے والے کئی ہزار ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نوجوان، بوڑھے، بچے، خواتین، نوجوان لڑکیاں اور ننھی پریاں بھی شامل ہیں، امریکی صدر سمیت، اس کی انتظامیہ اور یورپی حکمرانوں کے دلوں میں اس حوالے سے انسانیت نہیں جاگتی۔ غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا، غذا اور ادویات کی بھی قلت اور بچے کھچے لاکھوں فلسطینی کھلے آسمان کے نیچے انسانی ضروریات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں ان کا پرسان حال کوئی نہیں، اسرائیل 70فیصد غزہ پر قابض اور باقی 30فیصد پر قبضہ مکمل کرنے کو ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی حصے میں بمباری کی جاتی ہے، اسی طرح امریکی سینٹ کام کی اپنی اطلاع کے مطابق ایران پر ہر روز بم برسائے اور میزائل معہ ڈرونز داغے جا رہے ہیں اور شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔

جناب ٹرمپ کو اس ساری صورت حال میں بھی اسرائیل ہی نظر آتا ہے اور اب لبنان کے صدر سے ملاقات کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات ختم نہ کی جاتیں تو ایران جوہری بم حاصل کر چکا ہوتا اور سب سے پہلے اسرائیل دنیا کے نقشے سے غائب ہو جاتا، ویسے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے طو رپر بڑے انسان دوست ہیں اور ان کو اب لبنان سے بڑی ہمدردی ہوگئی ہے وہ لبنان کے صدر کو اپنا دوست کہہ رہے اور یہ اعلان کررہے ہیں کہ لبنان کے لئے بہت کچھ کریں گے اور یہ یقین دہانی اس معاہدہ کے بعد کی گئی جو امریکی تعاون سے اسرائیل اور لبنان کے صدر کے مابین ہوا جس کے مطابق جنوبی لبنان میں تین حفاظتی زون بنائے جا رہے ہیں یہ اسرائیلی تحفظ کے لئے ہیں کہ حزب اللہ نے اسرائیل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر سے ”ابراہم اکارڈ“ کی بات کی اور دعویٰ کیا کہ بہت سے اور ممالک بھی اس کا حصہ بننے جارہے ہیں، ان کی مراد لبنان کے علاوہ بعض حلیف عرب ممالک سے ہے اور یوں ڈونلڈ ٹرمپ واضح طورپر اسرائیلی نمائندہ بن کر عمل پذیر ہیں، اب انہوں نے ایران پر حملوں میں مزید تیزی کی حمایت کر دی ہے۔ امریکہ کا اپنا ریکارڈ یہ ہے کہ جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم چلانے کے بعد ہوا تھا دوسرے معنوں میں یہ امریکہ کی تاریخ ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ تو امریکہ کے سابق صدور کی نسبت بڑے ہی غیرمتوازن اور ناقابل اعتبار ہیں، وہ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں اس کا ثبوت بھی دے چکے کہ بی 2بمباروں سے بمباری کرکے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کیا اور پھر اسرائیل سے مل کر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور کئی اور رہنماؤں کو شہید کیا، یہ سب ان کی ”انسان دوستی“ ہے، وہ تو غزہ کی تعمیرنو کے بھی داعی ہیں اور بورڈ بھی بنا کر اس کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں لیکن اب تک غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی غزہ بورڈ کا کوئی اجلاس ہوا کہ تعمیر کے حوالے سے کوئی منصوبہ زیر غور آتا، فلسطینی بدستور صہیونی مظالم کا شکار کسمپرسی کی زندگی گزار رہے اور امریکہ اسرائیل کو نہ صرف اسلحہ مہیا کررہا ہے بلکہ اسرائیل کے اڈے بھی استعمال کررہا ہے۔

خبریں تو یہ ہیں کہ پاکستان اپنے دوستوں ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے تعاون سے مصالحت کے لئے پھر سے سرگرم عمل ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے ارادے حائل نظر آ رہے ہیں کہ اس نے برطانیہ کے نئے وزیراعظم سے بھی ایران کے خلاف فوجی اڈے مانگے اور ان کو مل بھی گئے ہیں، اس کے علاوہ سینٹ کمیٹی میں امریکی وزیر جنگ ہیگسیتھ نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے جنگ کے لئے مزید فنڈز مہیا کرنے کی اپیل کی ہے جو پینٹاگون کی رپورٹ کی روشنی میں ہے۔

قارئین! میں نے آج کوئی نئی بات نہیں کی صرف حالات کی روشنی میں یاد دہانی کرائی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی نیت نیک نہیں اور ارادے بھی خطرناک ہیں، وہ صہیونیوں کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر اترنے کوتیار ہیں، صہیونی مطمئن اور اب خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں کہ ان کا اسلحہ محفوظ رہے تاہم ایران کی قیادت نے بھی اصولی بات کرکے مقابلے کا اعلان کر رکھا اور مسلسل سامنا بھی کررہا ہے، اس تمام صورت حال کے اثرات دنیا بھر کے ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں تاہم پاکستان معاشی طور پر پوری طر ح سنبھل نہ پانے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہے۔ پاکستانی عوام (اشرافیہ نہیں) جو سفید پوش اور حقیقی غریب ہیں ان کی رگوں سے ایک سے زیادہ بار خون نکالا جا چکا اور اب ہر روز نکالنے کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔ مراعات یافتہ اور منافع خور مطمئن ہیں لیکن ”عوام“ کا دم نکلنے والا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اس سے پہلے اپنی رحمت سے بچانے کا اہتمام کردے کہ ہم اسی کے آسرے پر ہیں۔