ممتاز سماجی رہنما ہارون خان کے نام سے ’’ہارون خان ٹریل‘‘کاقیام

مسی ساگا(اشرف خان لودھی سے)ممتاز سماجی رہنما ہارون خان کے نام سے ’’ہارون خان ٹریل‘‘ قائم کر دی گئی، جس کی باقاعدہ تقریب Tillsdown Park میں منعقد ہوئی۔تقریب کے حوالے سے جاری اپنے پیغام میں ہارون خان نے کہا کہ یہ دن نہ صرف ان کیلئے بلکہ پوری ساؤتھ ایشین کمیونٹی کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے۔ہارون خان، جو پیل پولیس کے مشیر بھی ہیں، نے کہا کہ اس نوعیت کا اعزاز دراصل کمیونٹی کی اجتماعی خدمات کا اعتراف ہے اور یہ کامیابی تمام جنوبی ایشیائی افراد کیلئے باعثِ فخر ہے۔

تقریب میں مقامی حکام، کمیونٹی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات جن میں قونصل جنرل پاکستان خلیل احمدباجوہ، ممبر پارلیمنٹ پیٹرفرونسیکا،مسّی ساگا اسٹریٹس وِل سے رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر برائے خواتین و صنفی مساوات اورسیکریٹری آف اسٹیٹ برائے اسمال بزنس و سیاحت ریچی ویلڈیز، مسسی ساگا اسٹریٹس ویل سےایم پی پی برائے اسسٹنٹ منسٹر برائےچھوٹے کاروبار نینا تانگری،کونسلربریڈ بٹ ، وارڈ 6 سے کونسلر جو ہورنیک، وارڈ 2 سے کونسلر ایلون ٹیڈجو نے شرکت کی اور ہارون خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے نام سے ٹریل کا قیام آنیوالی نسلوں کیلئے ایک مثبت مثال ہے۔تقریب کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تارکین وطن کمیونٹیز کی خدمات کینیڈا کے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ہارون خان جیسے افراد اس کی بہترین مثال ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہارون خان نے اس اعزاز پر گہرے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں کھڑے ہونا ان کیلئےایک غیر معمولی لمحہ ہے اور انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ان کے نام سے ٹریل قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اعزاز پر نہایت شکر گزار اور عاجزی محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے مسی ساگا کی میئر کیرولین پیرش، کونسلر مسٹربٹ اور سٹی کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کیلئےبلکہ ان کے خاندان کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ہارون خان نے کہا کہ تقریب میں بڑی تعداد میں ایسے افراد کی موجودگی اس لمحے کو مزید خاص بنا رہی ہے جو طویل عرصے سے ان کی زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ تعلقات 1970 کی دہائی سے قائم ہیں، جو ان کی سماجی وابستگی اور دیرینہ رفاقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بچپن سے دوسروں کی مدد کرنے کی تربیت دی گئی اور ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے ایک ضرورت مند شخص کو اپنا کوٹ دے دیا تھا، جس نے ان کی سوچ اور زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔

ہارون خان کا کہنا تھا کہ جب وہ کم عمری میں کینیڈا آئے تو ان کے پاس کوئی بڑا منصوبہ نہیں تھا مگر انہوں نے انہی اقدار کو اپناتے ہوئے کمیونٹی کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے انہیں بہت کچھ دیا اور وہ اس کا قرض معاشرے کو واپس لوٹانے پر یقین رکھتے ہیں۔مقامی حکام اور کمیونٹی رہنماؤں نے ہارون خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے نام سے ٹریل کا قیام نئی نسل کیلئے ایک مثال ہے اور اس سے کمیونٹی سروس کے جذبے کو مزید فروغ ملے گا۔

کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کینیڈا کی بہترین، تعلیم یافتہ، محنتی اور قانون پسند برادریوں میں شامل ہےجبکہ ہارون خان کی خدمات پوری کمیونٹی کیلئےباعثِ فخر ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہارون خان نے کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ان کے خاندان کی خدمات بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہارون خان کی والدہ نے50-1949میں کراچی میں اپنے گھر سے آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جو خواتین کو بااختیار بنانے کی ابتدائی کوششوں میں شامل تھی۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جہاں 1950 کی دہائی میں خواتین کو سیاسی اور سماجی میدان میں آگے آنے کے مواقع ملےیہاں تک کہ 1962 میں ایک خاتون نے صدارتی انتخاب میں فوجی حکمران کے مقابلے میں حصہ لیا۔انہوں نے کینیڈا میں پاکستانی نژاد افراد کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً پانچ لاکھ پاکستانی نژاد افراد کینیڈا میں آباد ہیں جن کی اکثریت پارلیمنٹ، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں، کاروبار، فلاحی کاموں اور سماجی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

محمد سلیم کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی نہ صرف کینیڈا کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہے بلکہ اپنے آبائی ملک پاکستان میں بھی فلاحی سرگرمیوں میں سرگرم ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے ہر فرد کو ہارون خان کی طرح معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔پاکستانی نژاد کینیڈین شہری ذمہ دار شہری کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات کے فروغ میں کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ کمیونٹی کینیڈا کیلئے باعثِ فخر ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسی ساگاایرن ملزسے رکن پارلیمنٹ اقراء خالد نے کہا کہ ہارون خان مسی ساگا کمیونٹی کیلئے ایک غیر معمولی شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف کینیڈا میں بلکہ پاکستان میں بھی تعلیم اور فلاحی کاموں کیلئےنمایاں خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہارون خان نے پاکستان میں تعلیمی منصوبوں میں کردار ادا کرتے ہوئے اسکول قائم کیے اور دنیا بھر میں بچوں کی مدد کیلئے کام کیا جو ان کی انسان دوستی کی روشن مثال ہے۔اقراء خالد کا کہنا تھا کہ ہارون خان کی کمیونٹی سروس اور لگن قابلِ تحسین ہے اور ان کے نام سے قائم ہونے والی’’ہارون خان ٹریل‘‘ سے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے جو ان کی خدمات اور میراث کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

“جنگ نیوز کینیڈا “کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے ہارون خان سے خصوصی گفتگو کی جس میں ہارون خان نے اس اعزاز پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ انہیں اس قابل سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ایسے اعزازات کسی کے انتقال کے بعد دیے جاتے ہیں، میئر کیرولین پیرش نے خصوصی طور پر ان کی زندگی میں ہی یہ ٹریل ان کے نام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ خود اسے دیکھ سکیں۔

ہارون خان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا جیسے ملک میں رہتے ہوئے پاکستانیوں کو اپنے کردار اور عمل سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کا مثبت تشخص اجاگر کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ کمیونٹی کے ہر فرد کو ایسے کام کرنے چاہئیں جو ملک اور مذہب کے نام کو بلند کریں، اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کیا جائے جس سے پاکستان یا اسلام کی ساکھ متاثر ہو۔