مولانا محمد ادریس کی شہادت: ایک اور جنازہ، ایک اور سوال

چارسدہ، خیبر پختونخوا میں معروف عالمِ دین، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت نے ایک بار پھر صوبے میں امن و امان کی سنگین صورتحال پر کئی تلخ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں دن دہاڑے نشانہ بنایا گیا، حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، اور حسبِ معمول ابتدائی بیانات میں انہیں “نامعلوم افراد” قرار دیا گیا۔ یہ اصطلاح اب خیبر پختونخوا کے عوام کیلئےمحض ایک قانونی جملہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسی تلخ علامت بن چکی ہے جس کے پیچھے بے شمار خاندانوں کے دکھ، ریاستی ناکامیوں کے سوالات اور قاتلوں تک نہ پہنچنے والی تفتیشیں دفن ہیں۔

مولانا محمد ادریس جاں کی پہچان صرف ایک عالمِ دین کی نہیں تھی۔ وہ ایک شفیق استاد، ایک باوقار سیاسی شخصیت، ایک محبِ وطن پاکستانی اور امن و محبت کا پیغام دینے والے خطیب سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ معاشرے میں اعتدال، اتحاد اور پاکستان سے وفاداری کی بات کی۔ افسوس کہ جو شخص بدامنی کے خلاف آواز اٹھاتا رہا، وہ خود اسی بدامنی کا نشانہ بن گیا۔ ان کے جنازے میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایک بار پھر پختونخوا کے عوام نے اپنی ایک بڑی شخصیت کا جنازہ پڑھا، آنسو بہائے، دعائیں کیں، اور پھر گھروں کو لوٹ گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف جنازے پڑھنا، تعزیتی بیانات سننا اور چند دن بعد خاموش ہو جانا ہی اس قوم کا مقدر بن چکا ہے؟

واقعے کے بعد حسبِ روایت حکومتی اور انتظامی حلقوں کی جانب سے مذمتی بیانات جاری ہوئے۔ صاحبِ اقتدار شخصیات نے کہا کہ دہشت گردی کے ایسے بزدلانہ واقعات قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور قاتلوں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مگر عوام کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے بیانات اکثر چند دنوں تک خبروں کی زینت بنتے ہیں، پھر فائلیں سرد خانوں میں چلی جاتی ہیں، اور مقتولین کے نام ایک طویل فہرست کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں انصاف کا خانہ خالی رہتا ہے۔

خیبر پختونخوا ایک عرصے سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بدترین امن و امان کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیات مسلسل نشانے پر رہی ہیں۔ مولانا حمید الحق حقانی، مولانا خان زیب، مفتی منیر شاکر، مولانا ثناء اللہ اور کئی دیگر معروف علما و شخصیات کے قتل کے بعد بھی عوام نے یہی سوال اٹھایا تھا کہ قاتل کون ہیں، انہیں تحفظ کون دیتا ہے، اور ریاستی ادارے انہیں قانون کے کٹہرے میں کیوں نہیں لا پاتے؟ مگر افسوس کہ اکثر واقعات چند دن کی گرما گرم بحث، تند و تیز بیانات اور رسمی وعدوں کے بعد پس منظر میں چلے گئے۔

مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت کا ایک نہایت اہم پہلو سوشل میڈیا پر چلنے والی منظم اور نفرت انگیز مہم بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مولانا محمد ادریس جاں کے بعض خطبات، خصوصاً دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف ان کے واضح مؤقف کے بعد، انہیں مخصوص حلقوں کی جانب سے سخت تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کے نامناسب میمز بنائے گئے۔ انہیں “ریاستی ملا”، “اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ” اور دیگر توہین آمیز القابات سے پکارا گیا۔ یہ پہلو سنجیدہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔

پاکستان جیسے حساس معاشرے میں الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے۔ بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں مسلسل پروپیگنڈا، کردار کشی اور نفرت انگیز بیانیے نے حساس ذہنوں کو تشدد پر اکسایا۔ ایسے معاشرے میں، جہاں مذہب، سیاست، قومیت اور ریاست کے معاملات پہلے ہی انتہائی جذباتی نوعیت رکھتے ہوں، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر کسی عالمِ دین، صحافی، سیاست دان یا سماجی شخصیت کو غدار، ایجنٹ، کافر، ریاستی آلہ کار یا دشمن قرار دینے کا سلسلہ دراصل معاشرے کو تشدد کی طرف دھکیلتا ہے۔ جب کسی شخصیت کو بدنام کیا جاتا ہے اور پھر اس کیخلاف منظم نفرت پیدا کی جاتی ہے تو کوئی کمزور ذہن، کوئی انتہا پسند عنصر، یا کوئی منظم گروہ اس نفرت کو تشدد میں بدل سکتا ہے۔ اسلئے مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت کی تحقیقات صرف بندوق چلانے والوں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کیا ان کے خلاف کوئی منظم نفرت انگیز مہم چلائی گئی؟ کیا کسی سیاسی، نظریاتی یا انتہا پسند گروہ نے انہیں نشانہ بنانے کا ماحول پیدا کیا؟ کیا سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی زبان نے اس جرم کی فضا بنانے میں کردار ادا کیا؟

پختونخوا میں گزشتہ تیرہ برسوں کی حکمرانی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ صوبے کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ امن، تعلیم، صحت، روزگار، ترقی اور خوشحالی آخر کب حکمرانوں کی حقیقی ترجیحات بنیں گی؟ اگر صوبائی قیادت کا زیادہ وقت سیاسی محاذ آرائی، احتجاجی سیاست، مرکز کے خلاف بیانات اور جماعتی مفادات میں گزرے گا تو عوام کے بنیادی مسائل کون حل کرے گا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بیانات سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کیلئےسنجیدہ پالیسی، انٹیلی جنس تعاون، پولیس اصلاحات، عدالتی پیش رفت، مقامی آبادی کا اعتماد اور سیاسی قیادت کی واضح ترجیح درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بار بار قربانیوں کیلئے تو یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے مستقل ریاستی حکمت عملی کم ہی نظر آتی ہے۔ ہر شہادت کے بعد عوام کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے، مگر قاتلوں کی گرفتاری، مقدمات کی شفاف پیروی اور آئندہ واقعات کی روک تھام کے حوالے سے نتیجہ خیز اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ نتیجتاً عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ شاید ان کی جانیں، ان کے علما، ان کے مشران اور ان کی آوازیں کسی بڑی سیاسی بساط پر محض اعداد و شمار بن کر رہ گئی ہیں۔

مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت کو صرف ایک فرد کا قتل سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ واقعہ اس وسیع تر بحران کی علامت ہے جس میں دہشت گردی، نفرت انگیز سیاست، سوشل میڈیا پروپیگنڈا، کمزور حکمرانی اور ریاستی بے عملی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ اگر فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی ضروری ہے تو اسی طرح فتنۂ داخلی، فتنۂ انتشار اور نفرت پھیلانے والے منظم گروہوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہے۔ جو عناصر معاشرے میں زہر گھولتے ہیں، لوگوں کو غدار اور واجب القتل قرار دینے کے ماحول کو تقویت دیتے ہیں، وہ بھی امن کے لیے اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے بندوق اٹھانے والے دہشت گرد۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت کو محض ایک اور خبر، ایک اور جنازہ، ایک اور تعزیتی بیان اور ایک اور “نامعلوم افراد” کی فائل نہ بننے دیا جائے۔ حکومت، انتظامیہ، پولیس، عدلیہ اور ریاستی اداروں کو اس واقعے کی شفاف، سنجیدہ اور نتیجہ خیز تحقیقات کرنی چاہئیں۔ اگر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلائی گئی تو اس کے کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے۔ اگر دہشت گرد نیٹ ورک ملوث ہیں تو ان کی پشت پناہی کرنے والوں تک پہنچا جائے۔ اگر سیاسی اور انتظامی غفلت ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

پختونخوا کے عوام نے بہت جنازے اٹھا لیے۔ انہوں نے بہت بیانات سن لیے۔ انہوں نے بہت وعدے دیکھ لیے۔ پختونخوا کے عوام کو امن چاہیے، جنازے نہیں۔ انہیں ترقی چاہیے، تعزیتی بیانات نہیں۔ انہیں تحفظ چاہیے، وعدے نہیں۔ مولانا محمد ادریس جاں کی شہادت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے، نفرت کے کاروبار کو روکا جائے، اور صوبے کو ایسی قیادت اور حکمت عملی دی جائے جو عوام کی جان، عزت اور مستقبل کو اپنی سیاست سے زیادہ اہم اور اپنی اولین ترجیح سمجھے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ ایک قوم بار بار لاشیں اٹھاتی رہی اپنے بڑوں کے جنازے پڑھتی رہی، حکمران بیانات دیتے رہے اور قاتل ہر بار “نامعلوم” رہ کر معلوم نظام کی ناکامی پر مہر لگاتے رہے۔