نیپال: تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب، 400 کے قریب ہلاک، 1400 سے زائد لاپتہ

کھٹمنڈو (غیر ملکی میڈیا) نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 400 کے قریب پہنچ گئی جبکہ 1400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں اور زائرین کی ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ مقام پر بننے والی ایک جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور اس کے پھٹنے سے مزید تباہ کن سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق نیپال میں 389 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 910 افراد لاپتہ ہیں۔ چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں بھی کم از کم 3 ہلاکتیں اور 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔

لاپتہ افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق نیپال میں لاپتہ افراد میں 500 سے زائد غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن میں 33 برطانوی، 90 امریکی، 34 آسٹریلوی، 25 کینیڈین اور 177 بھارتی شہری شامل ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں جبکہ متاثرہ اور ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تاہم تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث ریسکیو کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ابتدائی طور پر زلزلہ سمجھے جانے والا واقعہ دراصل گلیشیئر اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر اچانک کھسکنے سے پیدا ہونے والی لرزش تھی، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور پانی کا ایک شدید ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔

حکام اور امدادی ادارے مزید جانی نقصان سے بچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ نئی بننے والی جھیل سے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔