سانحۂ پمز: ایک اور حادثہ، وہی پرانی کہانی

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں لگنے والی آگ نے چودہ نومولود بچوں کی زندگیاں چھین لیں۔ نرسری میں موجود پندرہ بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ یہ بچے حفاظت کی امید میں ہسپتال لائے گئے تھے، مگر محفوظ ترین سمجھی جانے والی جگہ ہی ان کی آخری آرام گاہ بن گئی۔ والدین کے پاس انہیں الوداع کہنے کیلئےالفاظ نہیں اور ریاست کے پاس ان کے سوالات کا جواب نہیں۔

آگ کی وجوہات کے بارے میں بعض غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جن کی حقیقت کا تعین شفاف تحقیقات ہی کر سکتی ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اسے روکنے، بچوں کو نکالنے اور امداد پہنچانے کے انتظامات کتنے مؤثر تھے۔ جہاں آکسیجن استعمال ہو، وہاں معمولی چنگاری بھی تباہی بن سکتی ہے۔ ایسے وارڈوں میں حفاظتی نظام، ہنگامی راستے، تربیت یافتہ عملہ اور آلات کی جانچ بنیادی ضروریات ہیں۔ تحقیقات واضح کریں کہ یہ انتظامات موجود تھے یا نہیں، اور اگر تھے تو کام کیوں نہ آئے۔

بدقسمتی سے یہ سانحہ نیا نہیں۔ کبھی ہسپتال میں آگ لگتی ہے، کبھی اسکول کی چھت گرتی ہے اور کبھی ناقص انتظامات کسی مسافر گاڑی کو اجتماعی قبر بنا دیتے ہیں۔ ہر حادثے میں مقام اور مرنے والوں کے نام بدلتے ہیں، مگر ریاستی اور سیاسی ردِعمل وہی رہتا ہے۔

حکومت افسوس کا اظہار کرتی ہے، ذمہ داروں کو سزا دینے کا اعلان ہوتا ہے اور تحقیقاتی کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔ اپوزیشن حکومت کو نااہل قرار دیتی ہے۔ میڈیا چند روز خصوصی نشریات کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر غصہ ابھرتا ہے۔ پھر کوئی نیا تنازع یا دوسرا سانحہ سامنے آتا ہے اور پہلا واقعہ اجتماعی حافظے سے محو ہونے لگتا ہے۔

حکومتیں اپنی کوتاہیوں کا سامنا کرنے کے بجائے عموماً منہ چھپانے اور دفاعی حصار قائم کرنے لگتی ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے حکومت کو نیچا دکھانے اور شرمندہ کرنے کا غنیمت موقع سمجھ کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع کر دیتی ہے۔ یوں متاثرہ خاندانوں کا دکھ اور جواب دہی کا سوال سیاسی بیان بازی میں دب جاتا ہے۔ اپوزیشن کے الزامات اور حکومتی جوابات سے شور تو بہت پیدا ہوتا ہے، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کی اپوزیشن جب کل اقتدار میں تھی تو ایسے سانحات پر تقریباً وہی دفاعی مؤقف اختیار کرتی تھی جو آج کی حکومت کر رہی ہے۔ اسی طرح آج کی حکمران جماعتیں جب اپوزیشن میں تھیں تو مسائل کے حل اور مسلسل نگرانی کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دیتی تھیں۔ کردار بدلتے رہے، مگر طرزِعمل نہیں بدلا؛ اسی لیے ہم خرابیوں، کوتاہیوں اور بے عملی کے دائرے سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

یہی ہماری تقریباً آٹھ دہائیوں کی افسوس ناک داستان ہے: سانحہ، تعزیتی بیان، رسمی تنقید، چند روزہ شور، بے نتیجہ انکوائری، اجتماعی فراموشی اور پھر نیا سانحہ۔ ہم نے حادثات پر رونا تو سیکھ لیا، مگر ان سے سبق سیکھنے کا مستقل طریقہ وضع نہیں کیا۔ ہر بار ذمہ داری کا وعدہ ہوتا ہے، لیکن اگلے سانحے سے پہلے خطرہ دور کرنے والا نظام قائم نہیں ہوتا۔

انکوائری کمیٹیاں مسئلہ نہیں؛ ان کا بے اثر ہونا اصل مسئلہ ہے۔ اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ کمیٹی نے رپورٹ مکمل کی یا نہیں، سفارشات کیا تھیں، کس کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور ان پر کتنا عمل ہوا۔ رپورٹیں سرکاری الماریوں میں بند ہو جاتی ہیں اور عوامی دباؤ ختم ہوتے ہی معاملہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یوں انکوائری انصاف کے بجائے غصہ ٹھنڈا کرنے کی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔

سانحۂ پمز کی تحقیقات کسی ٹیکنیشن، نچلے درجے کے ملازم یا خراب آلے کو ذمہ دار ٹھہرا کر ختم نہیں ہونی چاہییں۔ اگر حفاظتی آلات ناکارہ تھے تو ان کی جانچ کس کی ذمہ داری تھی؟ اگر مرمت کا بجٹ مانگا گیا تو اسے کس نے روکا؟ اگر بجٹ جاری ہوا تو کہاں خرچ ہوا؟ اگر ہنگامی منصوبہ موجود تھا تو عملے کو تربیت کب دی گئی؟ اگر عمارت محفوظ نہیں تھی تو حساس وارڈ کی اجازت کس نے دی؟ جواب دہی فیصلہ ساز عہدوں تک پہنچنی چاہیے۔

اپوزیشن کی ذمہ داری محض حکومت کو مجرم قرار دینا نہیں۔ اسے رپورٹ پارلیمان میں پیش کیے جانے اور ہسپتالوں کے حفاظتی معائنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ میڈیا کو غیر مصدقہ خبریں نشر کرنے اور سانحے کو سنسنی خیزی کی نذر کرنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کی ذمہ داری صرف سوگوار والدین کے آنسو دکھانا نہیں، بلکہ بعد میں یہ پوچھنا بھی ہے کہ تحقیقات کہاں پہنچیں اور کتنی اصلاحات نافذ ہوئیں۔ عوامی غصہ بھی تبھی نتیجہ خیز ہوگا جب وہ مستقل مطالبات میں بدلے۔ متاثرہ خاندانوں کو مالی معاوضے کے ساتھ سچ، انصاف اور تحفظ کی ضمانت چاہیے۔

وفاقی حکومت کو تحقیقاتی رپورٹ مقررہ مدت میں عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ تمام ہسپتالوں، بالخصوص نرسریوں، انتہائی نگہداشت کے وارڈز اور آکسیجن استعمال کرنے والے شعبوں کا آزاد فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے۔ سالانہ حفاظتی سرٹیفکیٹ، ہنگامی مشقیں، واضح انخلا کے راستے اور غفلت پر انتظامی و فوجداری ذمہ داری کا مؤثر نظام ضروری ہے۔ یہ اقدامات نئے سانحے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہونے چاہییں۔

پمز میں جان سے جانے والے نومولود محض خبر، تعداد یا سرکاری فائل نہیں تھے؛ وہ چودہ خاندانوں کی امید اور مستقبل تھے۔ اگر اس بار بھی رپورٹ دبا دی گئی، ذمہ داری کمزور افراد پر ڈال دی گئی اور اصلاحات کاغذوں تک محدود رہیں تو یہ ان والدین کے ساتھ دوسری ناانصافی ہوگی۔ قومیں اسلئےمحفوظ نہیں ہوتیں کہ وہاں حادثات نہیں ہوتے؛ وہ اسلئے محفوظ ہوتی ہیں کہ ہر حادثے کے بعد سچ سامنے آتا، ذمہ دار سزا پاتے اور نظام بدلتا ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہے کہ سانحۂ پمز ایک عارضی خبر بنے گا یا حقیقی جواب دہی اور دیرپا اصلاح کا نقطۂ آغاز۔