اسلام آباد (نامہ نگار) حکومت نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کردیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔ اعلامیے کے مطابق مالی معاوضہ انسانی جان کا نعم البدل نہیں بلکہ غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر سانحہ پمز کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کل اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی نے آج اسپتال کی نرسری کا سی سی ٹی وی ریکارڈ قبضے میں لے لیا جبکہ پمز کے عملے کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔ کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا۔
گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد غمزدہ والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا جبکہ سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج دے دیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واقعے پر خود کو سب سے پہلے احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم سے بات کرنے کے بعد مزید مؤقف دیں گے۔ ان سے مستعفی ہونے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں اور انہوں نے انہیں بعض باتیں کرنے سے روکا ہے۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں نصب ایک انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں نکلنے والی چنگاری سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی مبینہ غیر موجودگی اور دروازے بند ہونے کی شکایات بھی کیں جبکہ ریسکیو اداروں کے دیر سے پہنچنے کا الزام عائد کیا۔
سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھی پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔

