نیپال چین سرحد پر گلیشیئر ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب، 160 افراد ہلاک، سیکڑوں لاپتا

کٹھمنڈو (اے پی، رائٹرز) نیپال اور چین کی سرحد کے قریب ہمالیائی علاقے میں گلیشیئر کے ایک حصے کے ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں کم از کم 160 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔

نیپالی پولیس کے مطابق ملک میں کم از کم 157 افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں، جبکہ چین کے تبت خطے کے گیریونگ کاؤنٹی میں مزید 3 افراد ہلاک اور 265 لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں نیپال میں 400 سے زائد سیاح اور دیگر افراد لاپتا ہیں، جن میں تقریباً 340 غیر ملکی شامل ہیں۔ لاپتا غیر ملکیوں میں بھارت کے 133 یاتری، امریکا کے 47، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 24 شہری شامل ہیں۔ یہ افراد زیادہ تر تبت میں واقع مقدس مقام کیلاش مانسرور کی یاترا یا نیپال کے پہاڑی علاقوں میں سفر پر تھے۔

ماہرین کے مطابق ہمالیہ میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جاگرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں، مٹی اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا دریائے لھینڈے کھولا میں داخل ہوا اور نیچے آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابتدائی طور پر خیال کیا گیا تھا کہ 4.4 شدت کے زلزلے نے گلیشیئر کے انہدام کو متحرک کیا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں وضاحت کی کہ ریکارڈ ہونے والی لرزش ممکنہ طور پر گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر گرنے سے پیدا ہوئی تھی، نہ کہ روایتی زلزلے سے۔

سیلاب نے نیپال کے رسوا، نوواکوت اور دیگر متاثرہ علاقوں میں متعدد دیہات، مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے تباہ کردیئے۔ حکام کے مطابق تقریباً 19 پل اور لگ بھگ 40 کلومیٹر سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔

دریائے بھوٹے کوشی اور ترشولی میں پانی کی سطح میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا، جبکہ کئی علاقوں میں مکانات کی دوسری منزل تک کیچڑ اور ملبہ جمع ہوگیا۔ گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں اور متعدد علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔

لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کے 9 شہری، جو ایک پن بجلی منصوبے پر کام کررہے تھے، لاپتا ہیں جبکہ مزید 10 جنوبی کوریائی کارکن متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نیپالی حکام نے بتایا ہے کہ کم از کم 28 پولیس اہلکار بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

نیپالی فوج، پولیس اور امدادی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے، تاہم تباہ شدہ سڑکوں، پلوں، بجلی اور مواصلاتی نظام کے باعث امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام نے دریائے ترشولی، بھوٹے کوشی اور ناراینی کے کناروں پر رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور دریا کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

نیپال نے امدادی کارروائیوں کے لیے بھارت اور چین سے بھی مدد طلب کی ہے۔ بھارت نے ہر ممکن انسانی امداد اور ریسکیو تعاون کی پیشکش کی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی امدادی سامان اور عملہ متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے اثرات کے پیش نظر بھارت کی ریاست بہار میں بھی دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ حکام نے تقریباً 5 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جبکہ مزید 10 سے 12 ہزار افراد کی ممکنہ منتقلی کی تیاری کی جارہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں بڑھتا درجہ حرارت اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث اس نوعیت کے سیلاب، برفانی تودے اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔