ورک فرام ہوم یا اہل کارو ں کی موجیں؟

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے دنیا بھر کے ملک متاثر ہوئے۔پاکستان قریب تر ہمسایہ اور ترقی پذیرہونے کی وجہ سے زیادہ زد میں آیا کہ یہاں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی نایابی کا خدشہ پیدا ہو گیا جبکہ عالمی سطح پر پٹرولیم کے نرخ یکایک زیادہ بڑھ گئے تو ہم پر زیادہ اثر ہوا کہ ہمارے ملک کا زیادہ تر انحصار درآمدی پٹرولیم پر ہے، حالات کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی حکومت نے وزیراعظم محمد شہبازشریف کی قیادت میں سادگی اور بچت کے لئے کئی فیصلے کئے۔ وزیراعظم کے مطابق عوام سے قربانی مانگنے سے قبل خود حکومتی اخراجات میں کمی کے لئے بھی اقدامات کئے گئے اور تیل کی بچت کے لئے سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں نصف کے قریب کمی کر دی گئی کہ پٹرول کی بچت ہو۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت لازم ٹھہری کہ نجی اور سرکاری پاور ہاؤس جو تیل اور گیس سے چلتے تھے ان کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا اس سے بچت تو ہوئی تاہم لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل ہو گیا اور یوں عوام دہری پریشانی سے دوچار ہو گئے ایک طرف پٹرول مہنگا تو اس کے ساتھ اشیاء ضرورت کے نرخ بڑھ گئے، مزید برآں کیس اور پٹرولیم کے نرخ بھی زیادہ ہو گئے جو صارفین کی برداشت سے باہر تھے۔ حکومت کی طرف سے عوام کو تسلی دی جاتی رہی کہ حالات معمول پر آتے ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔

حکومت نے توانائی بچانے کے لئے ہی مارکیٹیں رات 8بجے بند کرانے کا حکم جاری کر دیا، ہفتے میں ایک چھٹی بڑھا دی دفاتر اور تعلیمی ادارے اب جمعہ کو بھی بند ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری دفاتر کے نصف عملے کو ”ورک فراہم ہوم“ کی ہدایت کی گئی کہ اس سے توانائی کی بچت ہوگی کہ دور جدید میں ہونے والی ترقی کے باعث مواصلاتی سہولتیں میسر ہیں۔ دیگر امور پر یوں عمل ہوا کہ لوڈشیڈنگ سے صارفین بلبلا اٹھے جبکہ دفاتر سے واسطہ پڑنے والوں کو مزید پریشانیوں نے گھیر لیا کہ نصف اہل کاروں کے ”ورک فراہم ہوم“ کی وجہ سے متعلقہ اہل کاروں کی دستیابی مشکل تر ہو گئی، ان سرکاری اہلکاروں نے اس قومی تحریک کو سبوتاژ کرکے رکھ دیا اور باقاعدہ چھٹیاں منانا شروع کر دیں جن اہلکاروں کو گھر سے کام کرنا تھا انہوں نے کام کرنے کی بجائے باقاعدہ چھٹی منانا شروع کر دی اور ان کا کام کسی دوسرے کے سپرد بھی نہ کیا گیا حتیٰ کہ عام لوگوں کے کام زیر التوا رکھے جانے لگے اور لوگ پریشان ہو گئے۔ اس امرکا اندازہ یوں لگا لیں کہ لوگوں کو جو سہولت گھر پر ملتی تھی وہ بھی مشکل تر ہوگئی اسکی مثال یہ ہے کہ این پی ٹی (نیشنل پریس ٹرسٹ) کے مرکزی دفتر اسلام آباد کے مخصوص عملے نے آدھے سٹاف کی ہدایت اور گھر سے کام کرنے کو چھٹی کا ذریعہ بنا لیا اور ان کے ذمہ جو کام تھے بری طرح متاثر ہونے لگے، حتیٰ کہ این پی ٹی کے کالعدم اخبار امروز کے زندہ رہ جانے والے ڈیڑھ درجن بوڑھوں کو پنشن کی رقم کی ترسیل میں تاخیر ہو گئی کہ ذمہ دار افسر گھر سے کام والی سہولت کے باعث پنشن بنک کو فراہم نہیں کرتے تھے،حالانکہ اس دفتر کا عملی کام اب کچھ نہیں،اس لئے عملہ کو این پی ٹی کی جائیدادوں کی نگرانی اور ان سے ہونے والی آمدنی کو محفوظ کرنا ہوتا ہے اس کے باوجود یہ محترم افسر کوئی پرواہ کئے بغیر احتیاط نہیں کرتے جس سے پنشنر خوار ہوتے ہیں،حالانکہ ان صاحب نے جبری حکم کے تحت پنشن والے افراد کے اکاؤنٹ پنجاب بنک میں کھلوائے کہ این پی ٹی کا اپنا اکاؤنٹ پی بی ایل میں ہے یہ سب ہو جانے کے بعد بھی صورتحال بہتر نہ ہوئی کہ پنشن تاخیر سے مل رہی ہے۔یوم مزدور (یکم مئی) کے باعث سرکاری اداروں نے اپریل کی تنخواہ ملازمین کو یکم مئی سے پہلے ادا کر دی اور ایسا ہی ای او بی آئی والوں نے بھی کیا، لیکن این پی ٹی کے پنشنر مستفید نہ ہو سکے کہ مذکورہ افسر دفتر ہی تشریف نہیں لا رہے تھے اور نہ ہی انہوں نے پیشگی کوئی اہتمام کیا،چنانچہ احتجاج کے بعد یہ پنشن7مئی کو موصول ہوئی اور متعلقہ بنک کی برانچوں سے اکاؤنٹ ہولڈر کو اطلاع دی گئی کہ ان کی پنشن جمع ہو گئی ہے اور اس کی وصولی 8مئی ہی کو ممکن ہو گی۔

یہ ایک مثال ہے اور ایسے دفتر کی ہے جس پر کام کا بوجھ بھی نہیں ہے اسلئے بہتر تو یہ ہے کہ وزیر اطلاعات محترم عطاء تارڑ از خود اس کا نوٹس لیکر حالات کو بہتر بنائیں جبکہ وزیراعظم سے التماس ہے کہ یا تو یہ سلسلہ(ورک فراہم ہوم) یہیں ختم کر دیں یا پھر کسی کو یہ فرض سونپیں کہ وہ نصف سرکاری اہلکاروں کی آدھی نفری کے حوالے سے تحقیق کرے کہ یہ حضرات وزیراعظم کی سادگی تجویز پر من و عن عمل کر رہے ہیں یا نہیں؟ جو ملازم غفلت کے مرتکب پائے جائیں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہونا چاہئے، کہ وزیراعظم نے جس مقصد کے لئے یہ فیصلہ کیا وہ تو پورا نہیں ہوا کہ پٹرولیم کی مجموعی کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور آدھے عملے نے عیش سے چھٹی پروگرام شروع کر رکھا ہے اور یوں حکومت سے تعاون نہیں کیا جا رہا، ویسے بھی اس سے ہمارے مجموعی سماجی کردار کی عکاسی ہوتی ہے کہ ہم بحیثیت قوم بھی ذمہ داری سے فرائض انجام نہیں دیتے۔