ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات یوکرین میں جنگ بندی معاہدے کے بغیر ختم

واشنگٹن/ماسکو (نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی تاریخی ملاقات یوکرین میں جنگ بندی کے کسی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ تین گھنٹے طویل گفتگو میں اگرچہ دونوں رہنماؤں نے دوستانہ تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے اور چند نکات پر اتفاق رائے کی بات کی، تاہم سب سے اہم مسئلے یعنی جنگ بندی پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

“طویل ملاقات، اچانک اختتام”
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاونین کے ہمراہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات اچانک ختم ہوگئی۔ بعدازاں دونوں صدور نے مختصر گفتگو میں گرمجوش کلمات کا تبادلہ کیا لیکن صحافیوں کے سوالات لینے سے گریز کیا، جو کہ میڈیا سے قریبی تعلق رکھنے والے ٹرمپ کے لیے غیر معمولی بات ہے۔

ٹرمپ: “ابھی معاہدہ نہیں ہوا”
ٹرمپ نے ملاقات کو “انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا اور کہا کہ ہم نے پیش رفت کی ہے لیکن جب تک مکمل معاہدہ نہ ہو، کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ چند نکات پر اختلاف باقی ہیں جن میں سے ایک نہایت اہم ہے۔

“پیوٹن کی محتاط گفتگو”
پیوٹن نے 12 منٹ کی مختصر پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پیدا ہونے والی “سمجھ بوجھ” یوکرین میں امن کی راہ ہموار کرے گی۔ ٹرمپ کی دوسری ملاقات کی پیشکش پر روسی صدر نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں کہا: “اگلی بار ماسکو میں ملیں گے۔”

“زیلینسکی اور نیٹو کو نظر انداز”
امریکی صدر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کی تجویز دی تھی مگر اس اجلاس میں اسے شامل نہ کیا۔ بعدازاں ٹرمپ نے کہا کہ وہ زیلینسکی اور نیٹو رہنماؤں سے الگ ملاقات کریں گے۔
زیلینسکی نے ایک بیان میں کہا: “جنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات روس کی طرف سے ہونے چاہئیں، ہم امریکا پر بھروسہ کر رہے ہیں۔”

“فوجی طاقت کا مظاہرہ”
ملاقات کے موقع پر امریکی فضائیہ کا B-2 اسٹیلتھ بمبار فضا میں پرواز کرتا رہا۔ ٹرمپ نے غیر معمولی طور پر پیوٹن کو اپنی صدارتی لیموزین “دی بیسٹ” میں ساتھ بٹھایا۔ ملاقات کے کمرے میں بڑی اسکرین پر “امن کی جستجو” کے الفاظ نمایاں تھے۔

“پس منظر اور حالیہ صورتحال”
پیوٹن کے خلاف یوکرین جنگ پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے۔روس نے حالیہ دنوں میں محاذ پر کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے اس کی مذاکراتی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔دوسری جانب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی دیہات دوبارہ حاصل کرلئےہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں