ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے آزاد تجارتی معاہدے کو غیر اہم قرار دے دیا

واشنگٹن (سی ٹی وی نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (کسما) کو اپ ڈیٹ کرنے کے بجائے امریکا کو “آزاد” دیکھنا چاہتے ہیں۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “میں اس کی پروا نہیں کرتا، میں تو چاہتا ہوں کہ امریکا آزاد ہو۔ کینیڈا اور میکسیکو کو ہماری ضرورت ہے، ہمیں ان کی ضرورت نہیں، کسما ہمارے لیے اہم نہیں۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیرف پالیسیوں کے باعث ٹویوٹا سمیت کئی کمپنیاں امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ درآمدی محصولات سے بچا جا سکے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کے کینیڈا۔امریکا تعلقات کے ناقد شووالائے مجمدار نے کہا کہ وزیراعظم مارک کارنی کی حکمت عملی اب تک کسی تجارتی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اپنی چیف تجارتی مذاکرات کار جینس شاریٹ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکی حکام سے مذاکرات کریں گے۔

ادھر کینیڈین چیمبر آف کامرس کی بزنس ڈیٹا لیب کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی نئی ٹیرف دھمکیوں نے کینیڈین کاروباری اداروں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے، جبکہ سرمایہ کاری میں سست روی مستقبل میں معاشی ترقی، پیداواری صلاحیت اور روزگار کو متاثر کر سکتی ہے۔

ادھر اینگس ریڈ انسٹیٹیوٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 62 فیصد کینیڈین شہری امریکی ٹیرف کے جواب میں جوابی محصولات کے حامی ہیں، جبکہ صرف 7 فیصد کا کہنا ہے کہ ٹیرف سے بچنے کے لیے امریکا کے مطالبات مان لیے جائیں۔ وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو حکومت ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔