لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل نے میڈیا اداروں میں چھانٹیوں، تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور این سی سی آئی اے کی طرف سے نوٹسز کے اجرا پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
احتجاجی تحریک مرحلہ وار ہوگی، جس میں میڈیا مالکان، ایڈیٹرز اور انتظامیہ کو ورکرز کش اقدامات کے خلاف خطوط لکھے جائیں گے۔ اس کے بعد لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا، جبکہ آخری مرحلے میں ایسے میڈیا اداروں کا گھیراؤ کیا جائے گا اور پنجاب اسمبلی کے باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
پی یو جے کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس صدر نعیم حنیف کی زیرِ صدارت لاہور پریس کلب میں منعقد ہوا، جس میں پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں پی یو جے کے جنرل سیکریٹری قمرالزمان بھٹی نے میڈیا اداروں میں صحافیوں اور ورکرز کی ابتر صورتحال، انہیں نوکریوں سے جبری برطرف کرنے، تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔
سیکریٹری جنرل پی ایف یو جے اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل پر آواز اٹھانے کیلئے پی ایف یو جے اور پی یو جے پُرعزم ہیں۔ پی یو جے جو بھی احتجاجی لائحہ عمل ترتیب دے گی، ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس معاملے میں ایک ملک گیر احتجاج کا لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے۔
پی یو جے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکریٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں میڈیا مالکان کو خطوط لکھے جائیں گے اور پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا، جبکہ آخری مرحلے میں میڈیا اداروں کا گھیراؤ کیا جائے گا۔
اجلاس میں این سی سی آئی اے کی طرف سے سینئر صحافیوں سجاد انور اور عمران شفقت کو نوٹسز کے اجرا پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ایگزیکٹو کونسل نے قرار دیا کہ عمران شفقت کو این سی سی آئی اے کے نوٹس کے پسِ پردہ وفاقی وزیرِ اطلاعات کے کردار کی اطلاعات زیادہ قابلِ تشویش ہیں۔
اجلاس میں 92 نیوز میں کیمرہ مینوں کی ذاتی سواری موٹر سائیکل پر ٹریکر لگانے کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ 92 نیوز کی انتظامیہ کا یہ اقدام بنیادی حقوق کے خلاف ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گاجبکہ دنیا نیوز میں ورکرز کی جبری برطرفی اور 60 سال سے اوپر صحافیوں کی جبری ریٹائرمنٹ کی بھی مذمت کی گئی۔
اجلاس میں پی یو جے کی سالانہ فیس کی وصولی اور ممبران کو پی ایف یو جے کے کارڈ کے اجرا کا بھی فیصلہ کیا گیا۔پی یو جے کے اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری پی یو جے خالد رشید، ممبر ایگزیکٹو کونسل فاروق شہزاد، محمد بشارت علی، عمر حفیظ، جمال احمد اور یاسین مغل بھی شریک ہوئے۔

