امیر العظیم کی صورت میں جماعت اسلامی کا ایک عہد ختم ہوگیا، ویسے تو زندگی فانی ہے، سبھی نے موت کا مزہ چکھنا ہے، مگر کچھ شخصیات کی رحلت صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی، ایک عہد کے اختتام کا احساس بھی اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنی پوری زندگی کسی نظرئیے، کسی مقصد اور کسی اجتماعی خواب کے لیے وقف کر دیتے ہیں، ان کا دنیا سے رخصت ہونا محض ان کے اہلِ خانہ یا جماعت کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ قومی زندگی میں ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتا ہے جسے مدتوں محسوس کیا جاتا ہے! وہ میرے محسن بھی تھے، بڑے بھائی بھی تھے اور رہنما بھی تھے،،، اُن کے جانے کے بعد مجھے ایسے لگ رہا ہے، جیسے میرے جسم سے میرا ایک بازو کٹ گیا ہے،،، کیوں کہ مجھے جب بھی کبھی اُن کی ضرورت محسوس ہوئی تو مجھے علم تھا کہ وہ اُن کی شکل میں میرا ایک ساتھی لاہور میں موجود ہے،،، اور ہمارا ساتھ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت پرانا اور چند دہائیوں پر مشتمل تھا،،، یعنی امیر العظیم ،میرے بچپن کے ساتھی ، میرے سکول فیلو اور یونیورسٹی کے رہنما ،،، واقعی عظیم تھے،،، وہ اسلامیہ سکول سنت نگر میں مجھ سے ایک سال سینئر تھے،،، لیکن ہم دوست اس لیے تھے کہ ہم سکول ”اسکاﺅٹس“ میں بھی شامل تھے، ،،اس کے علاوہ اُن کے بڑے بھائی نور العظیم ، میرے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں کے کلاس فیلو تھے، ،، ہماری دوستی وہیں سکول سے شروع ہوئی اور اُن کی رحلت تک قائم رہی،،،سکولنگ کے بعدمیرا داخلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہوا تو اُس وقت میں ”اینٹی جمعیت“ تھا،،،جبکہ امیر العظیم کالج لائف میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کے سرکردہ رہنماﺅں میں شامل ہوگئے تھے،،، اُس وقت میرے جمعیت والوںسے اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے،،، تو موصوف ہی صلح کروانے والوں میں سب سے آگے ہوتے تھے،،، اور کہا کرتے تھے،،، ”علی پنگے مت لیا کرو“ ۔ تو میں اکثر کہا کرتا کہ بھائی مجھے پتہ ہے،،، میرا بڑا بھائی جب تک ہے، مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے،، ، خیر اُس وقت نوجوانی میں بڑے بڑے ڈائیلاگ بھی بول لیا کرتے تھے،،، اور باتیں ہنسی مذاق میں اُڑا لیا کرتے تھے،،،
ہم اکثر کیفے میں اکٹھے ہوتے تو میں نے محسوس کیا کہ امیر صاحب کبھی کبھی میرے ساتھ کیفے میں بیٹھنے سے ہچکچایا کرتے تھے،،، اور کبھی کبھی ہم دوستوں کی محفل سے اُٹھ کر چلے جایا کرتے تھے،،، میں نے ایک دن اُن سے پوچھ ہی لیا کہ امیر صاحب خیر ہے،،، آپ اکثر جلدی میں ہوتے ہیں؟ تو کہتے ہیں کہ یار! میری جمعیت والے آپ کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھتے،،، لیکن میں پھر بھی آجاتا ہوں کہ آپ ناراض نہ ہو جاﺅ،،، وہ اکثر مجھے جمعیت میں آنے کی ”دعوت“ بھی دیتے،،، لیکن میں کہاکرتا تھا ،،، امیر بھائی! میرا مزاج آپ کی جماعت میں آنے کے قابل نہیں!وہ ہنس دیتے اور میرے شرارتی پن کی وجہ سے بات ہوا میں اُڑا دیتے،،، اور ویسے بھی جب آپ سکول کی تعلیم مکمل کر رہے ہوتے ہیں تو آپ پختگی کی عمر کو پہنچ رہے ہوتے ہیں،،، آپ نوبولوغیت میں بڑوں سے سیکھتے بھی ہیں، چیزوں کو پرکھتے بھی ہیں ، شرارتیں بھی کرتے ہیں، اور اُنہی شرارتوں کی بدولت آپ اپنی تربیت بھی کرتے ہیں اور اچھے برے میں تمیز بھی کرتے ہیں۔۔۔
خیر وقت گزرتا گیا، پھر میرا داخلہ ماسٹر ڈگری کیلئے پنجاب یونیورسٹی میں ہوگیا،،، اور یہاں امیر العظیم پہلے سے ہی براجمان تھے، یعنی پنجاب یونیورسٹی طلباءیونین کے منتخب صدر رہے، بعدازاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ لہٰذامیرے یہاں بھی وہی ”مسئلے“ یعنی طلبہ تنظیموں کے رولے تھے،،، اور انہی مسائل میں میرا ایک بار پھر جمعیت کے عہدیداران کے ساتھ جھگڑا ہوگیا،،، اور یہاں تو پہلے سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ کا طوطی بولتا تھا،،، اس لیے مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا،،، میں اپنے بڑوں کو ان مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا ”گناہ“ سمجھتا تھا،،، کیوں کہ ان کو بتانے سے معذرت کےساتھ میرے مسئلے حل نہیں ہوتے تھے،،، بلکہ بڑھ جاتے تھے،،، کیوں کہ اُنہوں نے یونیورسٹی چھڑوا کر یا تو گھر بٹھا دینا تھا یا یونیورسٹی آ کر میری ہی درگت بنانی تھی،،، اسلئے میں اندر ہی اندر پریشان ضرور تھا کہ یونیورسٹی میں کیسے بحالی ہو،،، اور الحمد اللہ ،،، یہاں بھی امیر العظیم ہی کام آئے! انہوں نے مجھے وائس چانسلر کے کمرے میں بلایا اور ساتھ تنظیم کے عہدیداران کو بلایا اور کچھ شرائط پر ہماری صلح کروائی ،،، اور اس طرح جامعہ پنجاب یونیورسٹی میں میری بحالی ہوئی۔
قصہ مختصر کہ میں ایک شریر طالب علم تھااور امیر العظیم نفیس اور سادہ طبیعت کے رہنما،،، وہ ہمیشہ مجھے تصادم سے بچاتے تھے،،، لیکن یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ اتنے بھی سادہ طبیعت کے نہیں تھے،،، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کے دور میں بھرپور مزاحمت دکھائی تھی،،،یعنی زمانہ طالب علمی میں امیر العظیم نے ضیاءالحق دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا اور اس کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، اسی قید کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر انھیں منتخب کر لیا گیا۔ تبھی جنرل ضیاءالحق نے 1984ءمیں کہا تھا کہ ”کوئی امیر العظیم ہو یا امیر الاعظم، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ (حوالہ جنگ اخبار) ۔ اس خبر کا پس منظر بتاتا چلوں کہ 10فروری 1984ءکو طلبہ یونینز پر پابندی کے بعد ملک بھر میں طلبہ تنظیموں نے سرکار کو خاصا ٹف ٹائم دیا تھا، اس تحریک میں سب سے توانا اور دبنگ طلبہ رہنماءامیر العظیم ہی تھے،،، اُن کی ایک کال پر ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آتے تھے، ،، اور حکومت پر دباﺅ ڈالتے تھے،،، اور ایک بار تو اس قدر دباﺅ ڈالا کہ صدر ضیاءالحق مذکورہ بالا جملہ کہنے پر مجبور ہوگئے،،، اور جیلیں بھی کاٹیں،،، بلکہ انہوں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس بھی کوٹ لکھپت جیل ہی سے کیا،،، اور جیسے ہی 1988ءمیں جنرل ضیاءکا دور اُن کے طیارہ کریش ہونے پر ہوا، اُن کا سفر بھی اسلامی جمعیت طلباءسے ختم ہوگیا ۔ اور جماعت اسلامی میں آگئے۔
اور پھر میں نے جب عملی زندگی (صحافت) میں قدم رکھا تو جماعت اسلامی اُس وقت پاکستان کی دوسری یا تیسری بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی،،، اُس کا ایک احتجاج حکومت کو ہلا کر رکھ دیتا تھا،،،میرے لیے امیر العظیم جماعت اسلامی کے اندر خبروں کا سب سے بڑا ”سورس“ ہو اکرتے تھے،،، جب بھی کبھی سرکار اور جماعت اسلامی کے حالات خراب ہوتے یا کہیں مذاکرات ہو رہے ہوتے،،، تو میں اُن کے پاس پہنچ جاتا،،، وہ بھی بڑے سیانے تھے،،، مجھے انکار تو وہ کر نہیں سکتے تھے،،، لہٰذا”اندر کی خبر“ دینے کے بجائے مجھے کہتے کہ چلو آﺅ،،، میں تمہیں فلاں کا انٹرویو دلوا دیتا ہوں،،، وہ شائع کر دینا ،،، اُن سے بہت سی ”اندر کی خبریں“ مل جائیں گی! ،،، میری صحافت بھی نئی نویلی دلہن کی طرح بالکل پاکیزہ تھی،،، میں بھی اکثر اُن کی باتوں میں آجاتا ،،، اور کبھی کبھی باتوں باتوں میں اُن سے اندر کی خبر نکلوا کر اگلے دن شائع کر دیتا ،،، اور پھر امیر صاحب کے فون کا ”انتظار“ کرتا،،، کبھی کبھی تو وہ فون کردیتے کہ یار! یہ بات میں نے آف دی ریکارڈ بتائی تھی،،، تم نے شائع کردی،،، میں کہا کرتا تھا کہ امیر بھائی،،، جس بات میں قوم کا بھلا ہو رہا ہو وہ ”آف دی ریکارڈ“ نہیں رہتی! بسا اوقات وہ بھی میری باتوں میں آجایا کرتے تھے،،، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور پھر جب میں نے اپنا اخبار نکالا تو اُن کا ایک فیکس موصول ہوا،،، جس میں لکھا تھا،،، ”شکر ہے“ ۔ اب اس ”شکرہے“ کا مطلب ، مجھے علم نہیں تھا کہ یہ طنز تھا، حقیقی شکر تھا یا اُنہیں علم ہو چکا تھا کہ اب یہ بندہ ”رپورٹنگ“ نہیں کر سکے گا،،، کیوں کہ اب اس پر ایک بڑی ذمہ داری آن پہنچی ہے! میں نے اپنے آفس میں اُنہیں مدعو بھی کیا ، اور پوچھا کہ شکر ہے کہ مطلب کیا ہے،،، اُنہوں نے ہمیشہ اس حوالے سے مذاق میں بات ٹال دی،،، اور میں چاہ کر بھی اُن سے اس کی وجہ نہیں پوچھ سکا۔
خیر امیر العظیم طویل عرصہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر کے طور پر فرائض انجام دیے، بعدازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات نبھائیں۔ 2019ءمیں اپنے دوسرے انتخاب کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے امیرالعظیم کو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔ امیر العظیم نے وکلاءتحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ میں پولیس کی طرف سے پھینکا آنسو گیس شیل ان کے سر پر لگا تھا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے، اس شیل سے لگے گہرے گھاو¿ کا نشان ان کے ماتھے پر نمایاں رہا۔ 2002ءکے ضمنی انتخابات میں امیر العظیم نے لاہور کی صوبائی نشست پر متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا۔ اس انتخاب میں ان کی اس وقت کے آمر پرویز مشرف کے زیر سایہ بننے والی حکمران جماعت کے امیدوار کے خلاف جاندار انتخابی مہم سے متاثر ہو کر مسلم لیگ نواز نے اپنا امیدوار امیر العظیم کے حق میں دستبردار کروا لیا، لیکن بدترین حکومتی دھاندلی کی بدولت امیر العظیم کی واضح جیت کو شکست میں بدل دیا گیا۔
اس کے علاوہ امیر العظیم ”فیوچر ویژن کمیونیکیشن“ کے چیف ایگزیکٹو تھے ،،، انہوں نے میرے اخبارروزنامہ ”لیڈر“ اور ”مقابلہ “ کو خاصے اشتہارات بھی دیے،،، جس سے آفس کے مالی معاملات کو حل کرنے کا حوصلہ ملتا رہا۔ ہم نے جب جب اُنہیں اپنے آفس میں، کسی کتاب کی رونمائی میں ، سالگرہ تقریبات میں، کسی فورم میں، یا کسی بھی سیمینار میں ہم نے اُنہیں جب جب مدعو کیا ،،، وہ آئے ،،، میرے خیال میں شاید ہی کوئی ایسا موقع ہو کہ جب ہم نے اُنہیں کسی فنکشن میں مدعو کیا ہو، اور وہ نہ آئے ہوں۔ لیکن اُن کے جانے سے میری زندگی میں جو خلاءپیدا ہوا ہے، اُسے پورا کرنا انتہائی مشکل ہے،،، وہ جب تک اسلامی جمعیت میں رہے میں گواہ ہوں کہ انہوں نے مکمل ایمانداری سے کام کیا، کبھی کسی سے زیادتی کرنے کی کوشش نہیں کی۔بلکہ اُن کے دیگر ساتھیوں کی طرف سے اگر کہیں زیادتی ہوئی بھی تو جمعیت میں احتساب کا نظام تھا۔ اس احتساب کے نتیجے میں لوگوں کی رکنیت تک ختم کر دی جاتی تھی، انھیں تنظیم سے نکال دیا جاتا تھا۔بہرحال آج ہم اُن کے بغیر ہیں،،، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ اُنہیں کروٹ کروٹ غریق رحمت فرمائے (آمین) ۔

