صحافتی زبان میں مقام بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے معمولی سا واقعہ بھی مقام کی وجہ سے اہمیت اختیار کرجاتا ہے جیسا کہ ایک واقعہ اگر کسی عام جگہ پر رونما ہو تو اس کی ویلیو اور ہو گی وہی واقعہ اگر ایوان صدر ، وزیراعظم ہاوس یا اسمبلی میں ہو تو اس کی اہمیت کچھ اور ہوتی ہے یہ تحریر بھی اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ زمین سے 36 ہزار فٹ کی بلندی پر لکھی گئی ہے ہم 14 گھنٹے تک زمین سے دور فضاوں میں گھومتے رہے اور فضا میں ہمیں کوئی کام نہ تھا 14 گھنٹے تک زمینی حقائق سے دور رہے دنیاوی رابطوں سے لاتعلقی کچھ پتہ نہیں تھا زمین پر کیا کچھ ہو رہا ہے کیونکہ زمین پر رہتے ہوئے لاشعوری طور ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کیا نئی تازہ خبر ہے اور کچھ نہیں تو خبروں کے سورسز ہی رابطہ کرکے نت نئی ڈویلپمنٹ کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں لیکن فضا میں ایسا کوئی رابطہ نہیں تھا جس سے حالات کا پتہ چلتا ایسے میں مجھے خیال آیا کہ کیوں ناں ایک کالم فضا سے لکھا جائے اور مقام کی وجہ سے اس کی اپنی اہمیت ہوگی لیکن 36 ہزار فٹ کی بلندی پر لکھی جانے والی تحریر میں بھی ہمارے پاس فضا کی کوئی ایسی سرگرمی نہیں تھی جسے ضبط تحریر میں لایا جاتا دراصل یہ تحریر لاہور سے کینیڈا کی فلائیٹ میں لکھی گئی جو 14 گھنٹے طویل تھی وہاں جہاز کے اندر کے ماحول کے علاوہ اور کس پر بات ہو سکتی تھی اس لیے زمین کے باسیوں کو زمین کی ہی فکر تھی البتہ میں فضا میں محو پرواز یہ سوچ رہا تھا کہ آج کا انسان کتنا ناشکرا ہے اللہ نے کیا کچھ اس کی دسترس میں نہیں کر دیا اور آج کے ایک عام انسان کو جو سہولتیں میسر ہیں وہ تو ماضی کے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں تھیں اگر برضغیر کے کسی مغل بادشاہ کو کینیڈا آنا پڑ جاتا تو وہ شاید کئی سالوں کا سفر کرکے بھی نہ پہنچ پاتا لیکن آج کا ایک عام انسان دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ جاتا ہے لیکن تمام تر آسائشوں کے باوجود ہم اتنے ناشکرے ہیں کہ سب سے زیادہ گلے شکوے میرے پاس یہ نہیں وہ نہیں کی رٹ لگائے رکھنے میں گزار دیتے ہیں اور جو آسائشیں ہمارے پاس موجود ہیں ان پر شکر کرنا بھول جاتے ہیں .
ہم فضا میں محو پرواز سوچ رہے تھے کہ آج کا دور مقابلہ بازی مارکیٹنگ اور بہتر سروسز فراہم کرکے ایک دوسرے کے کسٹمر چھیننے کا ہے ابھی اس طرف بھی آتے ہیں لیکن پہلے ذرا قارئین کی خدمت میں لاہور ایئرپورٹ کا آنکھوں دیکھا حال شئیر کر لیا جائے میری لاہور سے ٹورنٹو کی فلائیٹ 4بجکر 15 منٹ یعنی سحری کے ٹائم تھی میں سوا بارہ بجے گھر سے نکلا اور 15 منٹوں میں ایئرپورٹ پہنچ گیا وہاں انٹری پوائنٹ پر ہی اتنا رش تھا کہ بمپر ٹو بمپر گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں اور معلوم ہوا کہ بیک وقت 10فلائیٹیں ڈپارچر کے لیے لگی ہوئی ہیں چونکہ غیر معمولی رش کے باعث ڈپارچر گیٹ تک پہنچنا مشکل ہو رہا تھا بچے، بوڑھےاور خواتین زیادہ مشکل میں تھیں جن کی فلائیٹ میں وقت کم تھا وہ وہیں سے سامان نکال کر دوڑ کر انٹری والی جگہ پر پہنچ رہے تھے لیکن انٹری پوائنٹ پر بھی اتنی لمبی قطاریں تھیں کہ گھنٹے بعد کسی کی باری آتی تھی اوپر سےچیکنگ اور سکریننگ کا محدود نظام رشں پر قابو پانے میں ناکام تھا کسٹم کلیر کرنے سامان کی بکنگ کے کاونٹر اور ایف آئی اے کی امیگریشن ہر لمحہ رش ہی رش تھا کئی لوگوں کو شدید پریشانی کے عالم میں اضطرابی کیفیت میں دیکھا کچھ خواتین تو باقاعدہ رو کر واویلا کر رہی تھیں کہ خدارا ہمیں جلدی کلیر کر دیں ہماری فلائیٹ مس ہو جائے گی یہ سارے معاملات اپنی جگہ پر لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ پاکستان کے ایئرپورٹ آباد دکھائی دے رہے ہیں آج کل ایوی ایشن کی سرگرمیاں عروج پر ہیں مشرق وسطی میں کشیدگی کے باعث پاکستان کے ایئرپورٹس پر غیر معمولی رشں ہے یہ وقت تھا پاکستانی ائیر لائنز کے پاس کہ وہ بہتر سہولتیں فراہم کرکے دوسری ائیر لائنز کا بزنس چھین سکتی تھیں لیکن ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہمیں بہت توقع تھی کہ پی آئی اے نجکاری کے بعد انقلابی تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آئے گا لیکن وہی بوڑھے جہاز جن میں دوران پرواز کوئی انٹرٹینمنٹ کی سہولت نہیں یہاں تک سیٹوں پر لگی ایل سی ڈی بھی کام نہیں کر رہی تھیں بوڑھے جہازوں کی طرح بوڑھا سٹاف آج مقابلہ بازی کے لیے دنیا کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ہمیں فوری اچھے سٹاف کے ساتھ اچھی سروسز پر توجہ کی ضرورت ہے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں دو دو تین تین ائیر پورٹ ہیں وہ رش بانٹ لیتے ہیں ہمارے پاس اچھا بھلا متبادل والٹن کا تاریخی ایئرپورٹ ہوتا تھا جو برصغیر کا پہلا ائیر پورٹ تھا برضغیر میں پہلی لینڈنگ اسی ائیر پورٹ پر ہوئی تھی ہم نے اس تاریخی ائیر پورٹ کو ختم کرکے کمرشل بلڈنگیں بنانی شروع کر دی ہیں حالانکہ اس تاریخی ائیر پورٹ کو محفوظ کیا جا سکتا تھا اسے متبادل ائیر پورٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا تھا ڈومیسٹک فلائیٹس کا آپریشن یہاں سےشروع کیا جا سکتا تھا لیکن ہم نے بغیر سوچے سمجھے وہاں ہائی رائز بلڈنگز بنانے کا منصوبہ بنا لیا لاہور کو ایک متبادل ائیر پورٹ کی ضرورت ہے بلکہ اسلام آباد اور کراچی میں بھی ایک ایک ایئرپورٹ اور بننا چاہیے.

