ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی)کینیڈا میں وفاقی، صوبائی اور علاقائی سطح پر غیر ضروری سرکاری رکاوٹیں ختم کرنے کے ذمہ دار وزرا کا پہلا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں حائل ضابطہ جاتی پیچیدگیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کی مشترکہ میزبانی شفقت علی اور اینڈریا خانجن نے کی۔

وزرا نے اس امر پر زور دیا کہ غیر ضروری قواعد و ضوابط کاروباری ترقی کی رفتار سست کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہوتے ہیں، اسلئے حکومتی نظام کو زیادہ تیز، مؤثر اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی، صوبائی اور علاقائی وزرا نے مشترکہ اجلاس میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ خدمات کو مزید مؤثر کیسے بنایا جائے، دہرے نظام کو کیسے کم کیا جائے اور اخراجات میں کمی لا کر شہریوں اور کاروباری اداروں کو بہتر سہولتیں کیسے فراہم کی جائیں۔

اجلاس میں ڈیجیٹل خدمات، پالیسیوں اور ضوابط کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزرا نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس سے سرکاری فیصلوں میں تیزی، قواعد پر عملدرآمد میں بہتری اور عوامی خدمات کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام اور کاروباری اداروں کیلئےحکومتی تقاضوں کو آسان اور واضح بنانے کیلئےمشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔وفاقی، صوبائی اور علاقائی حکام آئندہ اجلاس سے قبل ایک مشترکہ ورک پلان تیار کرینگے جبکہ وزرا کا اگلا اجلاس رواں برس خزاں میں منعقد ہوگا۔

