تبوک(ایجنسیاں) دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز دورانِ پرواز ہنگامی صورتِ حال کے سگنلز جاری ہونے کے بعد سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر باحفاظت اتار لی گئی، اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے واقعے کو ہائی جیکنگ کا واقعہ قرار دینے کی تردید کردی۔
رپورٹ کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، جن میں 150 سے زائد اسرائیلی شہری شامل تھے۔ پرواز نے دبئی ایئرپورٹ سے صبح 7 بج کر 5 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اسے صبح 9 بج کر 10 منٹ پر تل ابیب پہنچنا تھا۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق پرواز کی روانگی کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد سعودی فضائی حدود میں طیارے سے ہنگامی صورتِ حال کا کوڈ 7700 جاری کیا گیا، جس کے تقریباً 7 منٹ بعد ہائی جیکنگ سے متعلق کوڈ 7500 بھی جاری ہوا۔
صورتحال کے بعد طیارے نے اپنا رخ تبدیل کیا اور سعودی عرب کی جانب پرواز جاری رکھی۔ دورانِ پرواز اسرائیل نے احتیاطی اقدام کے طور پر جنگی طیارے بھی فضا میں روانہ کیے۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق پرواز اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، جہاں طیارے نے اچانک رخ تبدیل کیا اور دوبارہ سعودی فضائی حدود کی جانب آگیا۔ بعد ازاں طیارے کو تبوک ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پرواز نے 11 بج کر 16 منٹ پر سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، جبکہ اس سے قبل 11 بج کر 11 منٹ پر طیارہ تبوک ایئرپورٹ کی لینڈنگ اپروچ کے دوران ریڈار سے غائب ہوگیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات میں طیارے کے ہائی جیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ہنگامی صورتِ حال کا تعلق مبینہ طور پر طیارے کے پائلٹوں کے درمیان جھگڑے سے تھا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پائلٹوں کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران ہائی جیکنگ کا ہنگامی سگنل فعال ہوگیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ پرواز میں پیش آنے والا واقعہ ہائی جیکنگ نہیں تھا۔طیارے کے سعودی عرب میں بحفاظت اترنے کے بعد مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات اور ہنگامی کوڈ 7500 جاری ہونے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
پرواز میں ہنگامی کوڈ 7700 کا استعمال عام طور پر عمومی ہنگامی صورتِ حال جبکہ 7500 کا استعمال ہائی جیکنگ یا غیر قانونی مداخلت کی اطلاع کیلئے کیا جاتا ہے، تاہم اس پرواز کے معاملے میں بعد کی اطلاعات نے ہائی جیکنگ کے خدشے کو مسترد کردیا۔

