اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے انکشاف کیا ہے کہ پمز اسپتال کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 بچے موجود تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے سوال اٹھایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بچوں کو لواحقین کے حوالے کیسے کیا گیا؟
سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنائے بغیر واقعے کی انکوائری مکمل نہیں ہوسکتی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ قبضے میں لے کر اس کا جائزہ لیا اور آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق اسپتال انتظامیہ کے بیان کا سی سی ٹی وی ریکارڈ سے موازنہ کیا۔ کمیٹی نے پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی۔
پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر کمیٹی کے حوالے کردیا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے بھی اپنی رپورٹس پیش کردیں۔کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4 افسران نے تحریری بیانات جمع کرائے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

