پنجاب بیوروکریسی،خادم یا حاکم ؟

پنجاب ہمیشہ سے پاکستان کا سب سے طاقتور صوبہ سمجھا جاتا ہے، آبادی، وسائل، سیاست، انتظامی ڈھانچے اور سرکاری مشینری کے اعتبار سے یہ ملک کا مرکز ثقل ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی وفاقی یا صوبائی بیوروکریسی کو بھی پاکستان کی سب سے مضبوط، منظم اور باصلاحیت بیوروکریسی تصور کیا جاتا ہے، ایک زمانہ تھا کہ پنجاب میں تعینات ہونا کسی بھی افسر کے لئے اعزاز سمجھا جاتا ،لاہور کے ایچیسن کالج،جی او آرز،جمخانہ کلب اور ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں بیوروکریسی کا دل اٹکا رہتا ، یہاں کے افسر فائل ورک، نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور فوری فیصلوں کے حوالے سے مثال سمجھے جاتے ، پنجاب کی بیوروکریسی کو تو اب بھی بہترین سمجھا جاتا ہے مگر افسروں کے تکبر اور بداخلاقی میں وقت کے ساتھ کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے ، سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ طبقہ جو “پبلک سرونٹ” ہے ، وہ “حاکم” کیسے بن بیٹھا؟وہ لوگ جنہیں عوام کی خدمت کے لئے تنخواہیں، گاڑیاں، بنگلے، سکیورٹی اور اختیارات دیئے گئے، وہ عوام کے آرام و سکون اور سہولتوں کے سامنے دیوار کیوں بنتے جا رہے ہیں؟

یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پنجاب میں ایک عام آدمی اکثر سرکاری دفاتر میں داخل ہوتے ہی خود کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے، اس کے چہرے پر خوف ، زبان میں جھجک اور دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید یہاں اس کی عزت نہیں ہوگی ،پہلے یہ حالات پولیس تھانوں اور دفاتر تک محدود تھے مگر اب تمام سرکاری دفاتر او ر اکثر سرکاری ملازم ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں،چند روز پہلے ، میرٹ کی بالادستی اور قانون ضابطوں پر عمل درآمد کے لئے مشہور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ تسنیم نورانی سے سر راہ ملاقات ہوئی ،گرمجوشی اور محبت سے ملے ، کہنے لگے میں آپ کے کالم پڑہتا ہوں ، آپ بیوروکریسی پر بہت کمال لکھتے ہیں، اس کی نبض پر آپ کا ہاتھ ہوتا ہے ،ذرا بتائیں ہمارے اور موجودہ دور کے افسروں میں کیا فرق ہے؟میں نے ہنستے ہوئے کہا من مانی ،ضابطوں کو روندنے اور ناجائز ذرائع سے آمدن بڑھانے میں آپ کے دور کا کوئی کوئی افسر ہی کامیاب ہوتا تھا مگر موجودہ دور کا افسر پہلے دن ہی یہ سب سیکھا ہوتا ہے ،اس پر قہقہہ لگا کر بولے ،جلد تفصیلی ملاقات ہونی چاہیے تا کہ ہمیں اپنی نئی پود کے حالات کا تفصیلی پتہ چل سکے۔

حیرت ہوتی ہے ، ہمارے سرکاری دفاتر میں بیٹھے اکثر سینئر افسر اپنے ماتحتوں سے بھی ایسے پیش آتے ہیں جیسے وہ انسان نہیں مشین اور کیڑے مکوڑے ہوں،بدقسمتی یہ ہے کہ اگر ملاقاتی جونئیر افسر صوبائی سروس سے تعلق رکھتا ہو تو کچھ سینئر پی اے ایس افسر اپنے آپ کو برہمن سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ شودروں جیسا رویہ رکھنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے،چند روز قبل مجھے چند برہمن سیکرٹریوں کے رویوں کا مشائدہ کرنے کا موقع ملا، میں ان سیکرٹریوں کا نام نہیں لکھنا چاہتا حالانکہ دل بہت چاہتا ہے کہ ان کا چہرہ دکھاوں ، ایسے سیکرٹری میرے سامنے ٹیلی فون پر اپنے سے بڑے افسروں سے بات کرتے جتنی دفعہ سر کہتے اتنی دفعہ اپنی کرسی سے اٹھنے کی کوشش بھی کرتے جیسے وہ وائس کال پر نہیں ویڈیو کال پر ہیں اور دوسری طرف اپنی سروس کے ایک جونیئر کے سامنے ملنے کے لئے آئے اچھے خاصے ضلعی عہدوں پر مامور بڑے صوبائی افسروں کو ایسے ٹریٹ کر رہے تھے جیسے وہ ان کے ذاتی ملازم ہوں۔

پچھلے دنوں پنجاب میں تعینات ،سرکاری زمینوں کے محافظ ایک اعلیٰ افسر ، زمینوں کا ہی کاروبار کرنے والے کچھ سیاستدانوں اور ،،قریبی رشتہ داروں ،،کو اپنا سفارشی بنا کر اپنے سے بھی بڑے افسر کے خلاف سازشیں کرتے پائے گئے ،اس پر ایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر سے میں نے حقیقت پوچھی تو انہوں نے کہا ،سارے چودھری وی مرجان تے ایہ چودھری نہیں بن سکتا۔

کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جو افسر دوسرے صوبوں خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دے کر پنجاب آئے، وہ نسبتاً نرم مزاج اور انسان دوست ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں کے حالات، قبائلی روایات، سماجی روابط اور عوامی نفسیات اسے انسانوں سے معاملہ کرنا سکھا دیتی ہیں، پنجاب میں ایسے افسر اچھے اخلاق والے سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب صورتحال الٹ ہوتی جا رہی ہے، اب تو بعض نوجوان افسر سول سروسزاکیڈمی سے نکلتے ہی خود کو کسی سلطنت کا وارث سمجھنے لگتے ہیں، ان کے لہجے میں سختی، چہروں پر غرور اور انداز میں ایسا تکبر ہوتا ہے جیسے عوام ان کے ماتحت ہوں۔

یہ بھی سچ ہے کہ پنجاب کی پوری بیوروکریسی ایک جیسی نہیں ، آج بھی پنجاب میں بے شمار اچھے، محنتی، کام کرنے والے اور شائستہ افسر موجود ہیں جو رات گئے تک کام کرتے ہیں، لوگوں کے فون سنتے ہیں، مسائل حل کرتے ہیں اور ان سے انسانوں جیسا سلوک کرتے ہیں، ایسے افسران ہی اس نظام کی اصل امید ہیں، خود چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملتے ہیں، فون سنتے ہیں، پیغامات کا جواب دیتے ہیں ، یہ ایک مثبت علامت ہے کہ نظام کے اوپر بیٹھا شخص کم از کم اخلاقیات کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ہفتہ کی رات گئے میں نے ایک خبر چیک کرنے کے لئے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات راجہ جہانگیر کو فون کیا تو وہ اس وقت بھی راولپنڈی میںمعرکہ حق کی کسی تقریب کی تیاریوں کا جائزہ لے رہے تھے ، اسی طرح سیکرٹری ہاوسنگ کیپٹن نورالامین مینگل غریب پرور مشہور ہیں ،سیکرٹری آبپاشی واصف خورشید ملنسار اور کام کرنے والے ، سیکرٹری داخلہ احمد جاوید قاضی ، محنتی ہیں ، ان سب کو بھی کسی وقت فون کر لیں،وہ فوری جواب دیتے ہیں ورنہ رنگ بیک ضرور کرتے ہیں،یہی حال سیکرٹری بلدیات میاں شکیل اور سیکرٹری زراعت افتخار سہو کا ہے ،دونوں انتہائی اپ رائٹ افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں ،سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کو تو اچھے کام کرنے کا خبط ہے،جہاں بھی جاتے ہیں چھا جاتے ہیں ،داتا صاحب ہسپتال کے ڈاکٹر جاوید ملک گزشتہ روز مٹھائی لے کر میرے گھر پہنچ گئے اور کہنے لگے سر آپ بھٹہ صاحب کا شکریہ ادا کریں ، انکی محنتوں اور محبتوں سے داتا صاحب ہسپتال دوبارہ اوقاف کو مل گیا ہے اور وہاں کا عملہ بھٹہ صاحب اور اپ کے لئے دعائیں کر رہا ہے۔

میں سوچ میں پڑ ا ہوں کہ خرابی کی اصل وجہ کیا “اختیارکا نشہ” ہے؟ بڑی گاڑی، پروٹوکول، گارڈ، سائرن، وی آئی پی کلچر اور ماتحت عملہ بعض افسروں کو حقیقت سے دور لے جاتا ہے، رفتہ رفتہ انہیں لگنے لگتا ہے کہ وہ عام انسانوں سے مختلف مخلوق ہیں، پھر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی تنخواہ اسی عوام کے ٹیکس سے آتی ہے جسے وہ دفتر کے باہر یا اندر ذلیل کرتے ہیں،انگریز نے یہ نظام عوام کی خدمت کے لئے نہیں بلکہ انہیں کنٹرول کرنے کے لئے بنایا تھا، اس وقت ڈپٹی کمشنر ضلع کا بے تاج بادشاہ ہوتا تھا، آزادی کے بعد جمہوری سوچ کے مطابق اس نظام کو بدلنا چاہئے تھا مگر ہم نے صرف انگریز کو نکالا، نظام نہیں بدلا، نتیجہ یہ نکلا کہ نوکر شاہی آج بھی خود کو حکمران طبقہ سمجھتی ہے،عام آدمی کو اہمیت دینا کمزوری تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ دنیا کے مہذب ممالک میں سب سے کامیاب افسر وہ سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ قابلِ رسائی ہو۔