پاکستان انہونیوں کی سرزمین ہے۔ یہاں دن رات صبح شام کسی بھی وقت کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے۔ ایسی ہی ایک انہونی گذشتہ ہفتے کراچی میں ہوئی ہے۔ جہاں وفاقی اردو یونیورسٹی سائنس کیمپس گلشن اقبال میں ایک ”تھانہ قائم“ کر دیا گیا ہے۔ وہاں ہوٹر والی پولیس موبائل کھڑی ہے۔ انویسٹی گیشن کا شعبہ وہاں منتقل ہو چکا ہے (یعنی ”ملزمان کی چھترول“ شروع ہونے والی ہے یا ہو چکی ہو گی)۔ ایس ایچ او صاحب کے ”شایانِ شان“ کمرہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ملزمان کا ”لانا لے جانا“ شروع ہے اور یہ یونیورسٹی کے اندر اکیڈمک بلاک کے عقب میں قائم کئے جا رہے ہیں، وفاقی اردو یونیورسٹی اپنے نام کے مطابق وفاق کے زیر اہتمام ادارہ ہے یعنی اس کے چانسلر صدر پاکستان آصف علی زرداری ہیں، جن کی پارٹی گزشتہ 18 سال سے مسلسل سندھ (کراچی) میں برسر اقتدار ہے۔یونیورسٹی کے پرو چانسلر وفاقی وزیر تعلیم ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول ہیں۔ (ایم کیو ایم کون ہے یہ کس کو نہیں پتہ، 1988ء کے الیکشن کے بعد سے آج تک کراچی میں ایم کیو ایم کا کیا دبدبہ، رعب، بادشاہت رہی ہے) یہ بھی ہر پاکستانی کے علم میں ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ حیران ہیں کہ آصف علی زرداری اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی موجودگی میں (ان کے ہوتے ہوئے) یونیورسٹی کی زمین پر پولیس ”کیسے قبضہ“ کر رہی ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی میں تھانے کے قیام سے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔مسلم ماڈل سکول لوئر مال میں زیر تعلیم تھے سکول کے بالکل سامنے تھانہ لوئر مال کی پرانی بیرک نما عمارت تھی۔1970ء میں ایک دن سکول ایڈیٹوریم کی چھت پر فارسی پڑھ رہے تھے کہ تھانے سے چیخوں کی آواز ہم تک پہنچی۔ دیکھا تو ایک شخص کو پولیس نے شلوار اتار کر زمین پر لٹایا ہوا تھا اور 14 انچ کے ”لتر“ سے اس کی ”کھال اتاری“ جا رہی تھی۔ اس کی چیخیں اتنی دل دہلانے والی تھیں کہ ساتویں کلاس کے 11- 12 سال کے بچے چلا اُٹھے اور پولیس کو باقاعدہ لعنت ملامت کی۔ تھوڑی دیر بعد پوری کلاس کو سکول پرنسپل ایم اے عزیز صاحب نے طلب کر لیا ان کے آفس کے سامنے حاضری ہوئی۔ انہوں نے سب سے پوچھنا شروع کیا لیکن بچوں نے بتانے سے گریز کیا۔ مجھ تک پہنچے تو پہچان کر کہا کہ تم سید مبین الدین احمد کے بھتیجے ہو۔ میں نے کہا جی تو کہنے لگے پھر سچ بتاؤ کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں پوری کہانی سنا دی وہ مجھے اپنے آفس میں لے گئے اور ڈی ایس پی کو فون کر کے کہا کہ آج کے بعد ایسا نہیں ہونا چاہئے۔میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے ایسا کوئی منظر دوبارہ دیکھیں اگر ایسا دوبارہ ہوا تو آئی جی سے بات کروں گا۔ کاش وفاقی اردو یونیورسٹی میں بھی مسلم ماڈل سکول کے پرنسپل ایم اے عزیز صاحب جیسا کوئی وائس چانسلر ہوتا۔
وفاقی اردو یونیورسٹی میں تھانے کے قیام کے معاملے پر صدر ٹیچر ایسوسی ایشن اصغر دستی کا ایک ٹی وی پروگرام میں کہنا تھا کہ تھانے کے لئے جگہ کسی اور نے نہیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر خود تو اسلام آباد میں ہوتے ہیں، مہینے میں ایک دو دفعہ یونیورسٹی تشریف لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا وائس چانسلر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ سینڈیکیٹ اور ہائیر اتھارٹیز کی اجازت کے بغیر یونیورسٹی کی جگہ تھانے کے لئے دے دیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہتھکڑیاں لگے ملزمان کو یونیورسٹی کے اندر لایا جائے گا۔ پولیس کا مسلسل 24 گھنٹے یونیورسٹی میں آنا جانا ہو گا۔ ملزمان کو چھڑانے والے اور ”بے گناہ ملزمان“ کے رشتہ دار روتے دھوتے یونیورسٹی کے اندر سے گزر کر تھانے جایا کریں گے اور یہ سب یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ اور طالبات کی موجودگی میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات بیحد پریشان ہیں۔ صدر ٹیچر ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ اس تھانے کے لئے کیا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ، وزیر داخلہ ضیاء النجار یا کسی ڈی آئی جی نے وائس چانسلر سے درخواست کی تھی اگر کی تھی تو اِس کا کوئی تو ثبوت ہو گا لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا نہ دکھایا جا رہا ہے۔
ٹی وی پروگرام میں جب وائس چانسلر ضابطہ خان شنواری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ جگہ پولیس کو دی ہے اور یہ جگہ دو مہینے کے لئے دی گئی ہے۔ یہاں ”تھانا نہیں ہو گا بلکہ افسر بیٹھیں“ گے۔ اس سوال پر کہ پولیس کی آمد و رفت کہاں سے ہو گی،کیسے ہو گی۔کیا پولیس والے اور عوام یونیورسٹی کے اندر سے گزر کے وہاں جائیں گے تو وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ وہ ان کو متبادل راستہ فراہم کریں گے۔ پروگرام اینکر نے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی بھی یونیورسٹی سے جگہ لے سکتا ہے تو وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹی وی چینل جگہ چاہتا ہے تو آجائیں ہم ان کو بھی جگہ دے دیں گے۔ وائس چانسلر نے یہ نہیں بتایا کہ یونیورسٹی کی جگہ پولیس کو دینے کے لئے کسی سے اجازت لی ہے کہ نہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ اس بارے میں کاغذ بھیجے ہیں، انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان سے یہ جگہ کس ”عہدے کے افسر“ نے مانگی ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار سے جب اس بارے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا بلکہ ان کا تو یہ کہنا تھا کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے ایسے کسی کاغذ پر دستخط کیے ہوں، اس سے پہلے جامعہ کراچی کی انتہائی قیمتی جگہ پر قبضہ کی مثال موجود ہے۔ جامعہ کراچی کے مین گیٹ کے سامنے سڑک پار جامعہ کراچی کی سات ایکڑ زمین ہے ،اس زمین پر ایک عمارت تعمیر کرلی گئی اب اس جگہ کی ملکیت کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ گزشتہ سال اسی زمین پر فوڈ سٹالز قائم کر دیئے گئے پھر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لوگ پولیس سمیت آ پہنچے اور انہوں نے اپنے بورڈ لگانا شروع کر دیئے (ان کا کہنا تھا یہ جگہ کے ڈی اے کی ہے)۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ نے قبضہ روکنے کی کوشش کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے جگہ کی ملکیت کے 1954ء کے کاغذات دکھائے۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کی نوبت آگئی تو کے ڈی اے اور پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا اور وہ جگہ جہاں قبضہ کرکے ریسٹورنٹ قائم کیے گئے تھے وہاں سے طلباء نے قبضہ ختم کرا لیا۔ یہ جامعہ کراچی کی کہانی ہے جو اپنی زمین کی واپسی کے لئے عدالت میں لڑائی لڑ رہی ہے کہ ان کی جگہ پر قبضہ ختم کیا جائے۔ کیا اب چند ماہ یا ایک سال بعد وفاقی اردو یونیورسٹی کے کرتا دھرتا عزیز بھٹی پولیس اسٹیشن کو ختم کرانے کے لئے طلبہ کی مدد لینے پر مجبور ہوں گے یا عدالت میں کیس جائے گا یہ سوال ابھی سے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔

