چین 3 ستمبر کو جدید فوجی ساز و سامان کی پہلی بار نمائش کرے گا

بیجنگ (نمائندہ خصوصی/ اے ایف پی) — چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ 3 ستمبر کو فوجی پریڈ میں ملکی طور پر تیار کردہ جدید فوجی ساز و سامان پیش کرے گا، جسے حکام نے ’’جدید جنگ میں فتح حاصل کرنے کی طاقتور صلاحیت‘‘ کا مظہر قرار دیا ہے۔

یہ پریڈ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 80 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر میں منعقد ہوگی، جس کا معائنہ صدر شی جن پنگ کریں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر عالمی رہنماؤں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

چینی فوجی کمیشن کے اہلکار میجر جنرل وو زے کے کے مطابق پریڈ میں شامل تمام ہتھیار اور آلات ملکی طور پر تیار کردہ ہیں اور زیادہ تر فعال مرکزی جنگی نظاموں سے منتخب کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے جدید ہتھیاروں کی ہوگی جو پہلی بار عوامی سطح پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

اہم ساز و سامان میں اسٹریٹیجک ہیوی ہتھیار، ہائپرسانک درستگی والے نظام اور بغیر پائلٹ آلات شامل ہیں۔ پریڈ تقریباً 70 منٹ تک جاری رہے گی جس میں زمینی فوجوں کا مارچ پاسٹ، بکتر بند کالم، فضائی دستے اور دیگر ہائی ٹیک آلات شامل ہوں گے۔

چین کے حکمران کمیونسٹ پارٹی نے ماضی میں بھی جاپان کے خلاف جنگی مزاحمت کی یاد میں کئی بڑی تقریبات منعقد کی ہیں۔ لاکھوں چینی 1930 اور 40 کی دہائیوں میں جاپانی سامراجی فوج کے خلاف طویل لڑائی میں مارے گئے تھے، جو بعد میں عالمی جنگ کا حصہ بن گئی۔

کریملن نے تصدیق کی ہے کہ پیوٹن شرکت کریں گے، جبکہ دیگر عالمی رہنماؤں کی موجودگی بھی متوقع ہے۔

چین نے مارچ 2025 میں اپنے دفاعی اخراجات میں 7.2 فیصد اضافہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اسٹریٹجک سطح پر امریکا کے ساتھ مقابلے کے پیشِ نظر فوجی جدیدیت کے عمل کو تیز کرنے کی غمازی کرتا ہے۔

چین کے پاس اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فوجی بجٹ ہے، تاہم وہ اب بھی اپنے بڑے حریف امریکا سے پیچھے ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں