اوٹاوا (بی بی سی، رائٹرز) کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کے نئے ٹیرف کو ’’غلط فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کینیڈا کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے، جبکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت آگئی ہے۔
مارک کارنی نے ہفتے کی صبح کینیڈین عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے اور بہت کم پیشکش کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی ٹیرف کا ڈالر بہ ڈالر جواب دے گا۔
کارنی کے مطابق کینیڈا امریکی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، برقی آلات، زرعی مشینری، گودا و کاغذ اور الیکٹرانکس سمیت مختلف اشیا پر جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا یہ اقدام اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ’’مجبوراً‘‘ کررہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے 50 فیصد ٹیرف جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نافذ ہوئے۔ یہ ٹیرف تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات پر عائد کیے گئے ہیں، جن میں شراب، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، فرنیچر اور ہاکی کا سامان شامل ہے۔
کارنی نے کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسی شرائط پیش کیں جو ناقابل قبول، غیر منصفانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ تھیں۔ ان میں کینیڈا کی دیگر ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔ انہوں نے کینیڈا پر مذاکرات کے دوران نئے مطالبات کرنے اور پہلے طے شدہ شرائط سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔
کینیڈا کی اپوزیشن جماعتوں اور متعدد صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے وزیراعظم کارنی کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، جبکہ برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے بھی امریکی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا۔
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے تاہم دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
تجارتی مذاکرات کے خاتمے سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان موجود آزاد تجارتی معاہدے USMCA کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ کارنی نے کہا ہے کہ مذاکرات کا اس طرح ختم ہونا USMCA کیلئے ’’یقینی طور پر اچھی خبر نہیں‘‘۔

