کیا نئی سیاسی جماعت بننے جا رہی ہے؟

یہ سوال کہ کیا اس وقت نئی سیاسی جماعت بننے جا رہی ہے،،، اُس وقت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب سیاسی میدان خالی کر دیا جا رہا ہو،،، جی ہاں! واقعی اس وقت سیاسی میدان خالی کر دیا گیا ہے،،، تبھی اندرکھاتے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں،،، یہ نئی سیاسی جماعت کن لوگوں پر مشتمل ہوگی،، اس حوالے سے میں آگے چل کر مزید بتاتا ہوں مگر اس سے پہلے پاکستان کی سیاست اور اُس میں نئی سیاسی جماعت کی Spaceکو ذرا سمجھ لیجیے کہ یہاں نئی سیاسی جماعتوں اور کارکنان کا تعلق کسی اصول پر قائم نہیں ہوتا بلکہ ”مرشد اور مریدین“ کے فارمولے پر ہوتا ہے۔ یعنی ”مرشد“ جیسا بھی ہو،” مرید“ کو اسی کے راستے پر چلنا پڑتا ہے، ،،خواہ اس راستے کے اختتام پر اقتدار کی منزل ہو یا جیل کی کوٹھڑی۔ سیاست میں مرشد سے محبت، وفاداری اور نظریاتی وابستگی اپنی جگہ، مگر جب یہی وابستگی سیاسی بصیرت، زمینی حقائق اور حالات کے تقاضوں پر غالب آجائے تو فیصلے جذبات کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کی قیمت پوری جماعت، اس کی قیادت اور بالآخر اس کے ووٹر کو ادا کرنا پڑتی ہے۔اس کی تازہ مثال آپ خیبر پختونخواہ میں دیکھ لیں کہ جہاں سہیل آفریدی نے ”مرشد“ کی خاطر اپنی حکومت تو داﺅ پر لگائی ہی، مگر ساتھ ہی اپنی اور کارکنان کی جان کو بھی خطرے میں ڈالا۔ یعنی مرشد کی محبت میں سہیل آفریدی اقتدار سے محرومی کے بعد نظر بندی تک پہنچ گئے ۔

اورویسے بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا ہمیشہ سے یہ خاصا رہا ہے کہ وہ ہر دور میں ”مریدوں“ کو مرشد مہیا کرتی رہی ہے،،، کبھی یہ مرشد بھٹو کی شکل میں دیے گئے،،، کبھی یہ نواز شریف کی شکل میں دیے گئے ،کبھی بے نظیر بھٹو کی شکل میں ، کبھی چودھریوں کی شکل میں ، کبھی عمران خان کی شکل میں ، تو کبھی شہباز شریف کی شکل میں۔ اور ہر دور میں یہی کہا جا تا رہا کہ بھائی! یہی ”مرشد“آپ کو مشکل صورتحال سے نکالیں گے،،، جیسے آپ دیکھ لیں کہ 2022ءمیں بیانیہ بنایا گیا کہ عمران خان کے دور میں ملک دیوالیہ ہونے ہی والا تھا کہ شہباز شریف کی شبانہ روز محنت نے ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر دیا،،،حالانکہ اس سے پہلے ہمیں عمران خان کے دور میںبتایا گیا کہ ”مرشد“ (عمران خان) کا خیال رکھیں اور مثبت خبریں دیں،،، حالات ٹھیک ہو جائیں گے،،، لیکن پتہ نہیں اندر کھاتے کیا ان بن ہوتی ہے ،،، کہاں سے فون آتا ہے،،، کہ وہی محب وطن لیڈر (مرشد)پھر غدار بن جاتا ہے،،،

نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ جب سے پاکستان بنا ہے ،،، تب سے لے کر اب تک سبھی محب وطنوں کو غدار قرار دے کر ٹھکانے لگا دیا گیا ہے،،، جیسے 1947 کو لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1951 کو وہ بے دردی سے قتل ہوئے۔ ان کی انکوائری رپورٹ حادثے میں جلادی گئی۔ 1947 کو قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین لیگ کے پہلے صدر بنے اور 1964 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔ 1947 کو سردار ابراھیم نے کشمیر کی الحاق پاکستان کی مہم چلائی 2009 میں ان کے بیٹے غدار قرار پائے۔ 1945 میں والئی قلات احمد یار خان نے قائداعظم کو سونے اور چاندی میں تول دیا تھا 2006 میں ان کے پوتے کو اپنی جان بچانے کے لئے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ 1933 میں چودھری رحمت علی نے پاکستان کا نام رکھا 1951 میں ان کا سب کچھ ضبط کرکے ان کو جلاوطن کر دیا گیا۔“کہتے تھے مجیب الرحمان غدار تھا“ تاریخ پڑھی تو پتہ چلا ڈھاکہ سے لیکر کلکتہ تک جو شخص قیام پاکستان اور مسلم لیگ کے لئے سائیکل پر چندہ اکٹھا کرتا تھا اس کا نام تھا شیخ مجیب الرحمان ! ،،، پھر مجھے کہا گیا اکبر بگٹی غدار تھا،،، بلوچستان کی مٹی گواہ ھے 12 سال کی عمر میں بلوچستان کے جرگے سے پاکستان کے حق میں فیصلہ کروانے والا شخص تھا،،، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے مگر 2004 میں بہترین قومی مفاد میں اس قومی ہیرو سے قومی نشریاتی چینل پر معافی منگوائی، وہ آخر عمر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ اور آخر کار پاکستان کا محسن منوں مٹی تلے جا سویا۔ نواب آف بہاولپور جن کو قائداعظم نے محسنِ پاکستان کا لقب دیا، انکے بیٹے مامون الرشید عباسی کے ساتھ ریاست نے وہ ظلم کیا کہ مخملی بستروں پر سونے والوں کو مظفر گڑھ جیل میں رکھ کے کوڑے مارے گئے۔پھر محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا،، پھر نواز شریف دور میں بے نظیر کو غدار قرار دیا گیا،،، اور محترمہ کے دور میں نواز شریف غدار ٹھہرے،،، پھر عمران خان کو بھی راستے سے ہٹانے کے لیے ملک کے مقتدرہ اور اشرافیہ نے میڈیا کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا،،، کہ وہ غدار ہے ،،، لیکن مریدین نے کہا کہ یہ سب جھوٹ بند کرو،،،

لیکن فیصلہ کرنے والے ابھی بھی بضد ہیں کہ نہیں! وہ غدار ہے،،،اس پر بھی کوئی نہ مانا تو پھر کچھ سمجھدار لوگوں نے ان کو سمجھایا کہ کیوں نہ ایک بار پھر ”مرشد“ بدل دیا جائے،،، کیوں کہ عوام موجودہ سیٹ اپ میں نہ تو نواز شریف کو مرشد ماننے کے لیے تیار ہیں، نہ شہباز شریف کو،،، نہ زرداری صاحب کو اور نہ ہی بلاول کو۔ اس لیے اب فیصلہ کرنے والوں نے سوچا ہے کہ نیا ”مرشد“ لانچ کیا جائے،،، اس کے لیے شنید ہے کہ کوئی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جا رہی ہے،،، یہ سیاسی جماعت اُن باغیوں پر مشتمل ہو گی جو اس وقت انقلابی سوچ رکھتے ہیں،،، یا جو تبدیلی کی بات کر رہے ہیں،،، ان میں محمد علی درانی بھی ہو سکتے ہیں،،، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، سعد رفیق، جاوید لطیف ، حافظ نعیم الرحمن وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں،،، اب آپ یہ کہیں گے کہ ان ناموں میں پاکستان عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کا نام شامل کیوں نہیں ہے؟ یا چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد کے نام اس میں شامل کیوں نہیں ہیں تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ مقتدرہ کے خیالات کے برعکس ابھی ان میں سیاسی میچورٹی نہیں آئی،،، اور ابھی یہ ”زیر تربیت“ ہیں،،، اس لیے مستقبل قریب کے سیٹ اپ میں انہیں چھوٹی موٹی ذمہ داریاں مل سکتی ہیں،،، لیکن وہ ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ عوامی انقلاب کی قیادت کر سکیں۔

الغرض قصہ مختصر یہ ہے کہ ان تمام سیاسی جماعتوں کے وہ رہنما جو انقلاب کی باتیں کرر ہے ہیں، ذرائع کے مطابق اُن سب پر مشتمل ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل دی جا رہی ہے،،، اس کا فائدہ یہ ہونے والا ہے کہ ایسا کرنے سے تحریک انصاف کے مزید اراکین کو توڑ جائے گا،،، پیپلزپارٹی بھی کمزور ہو جائے گی، مرکز میں ن لیگ کو توڑا جائے گا،،، لیکن وزیر اعظم کو ”Safe“ رکھا جائے گا،،، ایسا اس لیے بھی کیا جائے گا کیوں کہ وزیرا عظم جیسا ”صبر“ کسی دوسرے لیڈر میں نظر نہیں آتا۔

خیر آپ کچھ بھی کر لیں،،، لیکن یہ بات تو طے ہے کہ آپ تحریک انصاف کا متبادل فی الحال لا ہی نہیں سکتے،،، اور میرے خیال میں ایک مرتبہ تو پی ٹی آئی اقتدار میں ضرور آئے گی،،، یعنی آپ جتنے مرضی مرشد لانچ کر لیں،، لیکن یہ بات طے ہے کہ فی الوقت پاکستان کی سیاست جیل میں بیٹھے ایک ہی مرشد کے گرد گھوم رہی ہے،،، اور ویسے بھی لوگ جانتے ہیں کہ اس طرح کی بہت سی ٹانگہ پارٹیاں بنی ہیں، ماضی میں سیاست جب جنرل ایوب کے زیر سایہ استوار ہوئی، کنونشن لیگ وجود میں آئی، حامی سیاسی جماعتوں کو ایوب خان کی زیر قیادت کنونشن لیگ کی سیاست میں ضم ہونا پڑا۔ ضیا الحق دورنے من و عن تاریخ کو دہرایا۔ فنکشنل لیگ بنی، باقی جماعتیں بشمول بھٹو پارٹی کے سر کردہ رہنما سارے ضیا الحق کی سر پرستی میں رہے، بالآخر ضیا الحق کیساتھ خرچ ہو گئے۔ البتہ 1993میں نواز شریف نے اپنی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے نکال لیا، بچ گئے۔ مشرف دور میں ق لیگ بنی، تمام حامی جماعتیں اور گروہ حصہ بنے۔ آج وطنی سیاست سے باہرہیں۔یعنی جہانگیر خان ترین کی طرح ”بڑوں“ نے غلام مصطفیٰ جتوئی سے این پی پی یعنی نیشنل پیپلزپارٹی بھی بنوائی ۔ حالانکہ انہوں نے بحالی جمہوریت تحریک (ایم آر ڈی) میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جب انہیں 1983ءاور 1985ءمیں گرفتار کیا گیا۔ تو اُس کے بعد انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔کئی بڑے لیڈروں نے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ مصطفی جتوئی خود اس پارٹی کے چیئرمین تھے۔پھر پاکستان مسلم لیگ (جونیجوگروپ) بنی۔ پھر ابھی دو تین سال قبل استحکام پاکستان پارٹی بنائی گئی،،، اب وہ کہاں ہے؟ کیا کبھی اُس کی کوئی کارنر میٹنگ دیکھی کسی نے؟ مطلب یہ سب پارٹیاںجو بنائی جاتی ہیں اپنی موت آپ مر جاتی ہیں،،،

بہرکیف عرض اتنی کہ تحریک انصاف کی SPACE اس وقت کوئی نئی پارٹی نہیں لے سکے گی،،، کیوں کہ میرے خیال میں وہ ایک بار اقتدار میں ضرور آئے گی،،، اور رہی بات کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی تو بادی النظر میں انہیں ان کی اہمیت کا اُس وقت اندازہ ہوگا جب یہ لوگ عوام کے درمیان آئیں گے۔ کیوں کہ عوام کے درمیان ایک سیاسی جماعت کو بزور قوت پیچھے دھکیلنے کے حوالے سے جو غم و غصہ پایا جاتا ہے وہ یقینا ان پر نکل سکتا ہے۔ یہ وہ غصہ ہوگا جو عوام برداشت کر کے بیٹھے ہوئے ہیں، اور پھر اہم بات یہ ہے کہ یہ لوگ عوام میں جا کر کس قسم کی جھوٹی قسمیں کھائیں گے؟ کونسے وعدے وعید کریں گے؟ بے شرمی کی انتہا تو یہ ہوگی کہ جب یہ لوگ عوام میں آکر جھوٹ بولیں گے کہ ہم ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے ،،، لہٰذا حالات صدا ایک جیسے نہیں رہتے۔ یقینا حالات بدلیں گے، سیاست جیتے گی اور وہی سیاسی جماعت رہے گی جو عوام کے دلوں پر راج کرتی ہے!