کیوبیک میں علیحدگی پسند جماعت کی کامیابی، البرٹا میں بھی علیحدگی کی آواز بلند

کیلگری(سی ٹی وی نیوز) کیوبیک میں علیحدگی پسند جماعت پارتی کیوبیکوا کی صوبائی انتخابات میں کامیابی کے بعد البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کی تحریک ایک بار پھر قومی اتحاد کے سوال کو مرکز میں لے آئی ہے، جبکہ البرٹا کے باشندے رواں ماہ صوبے کی جانب سے کینیڈا میں رہنے یا علیحدگی کے ممکنہ ریفرنڈم کی طرف بڑھنے سے متعلق ووٹ ڈالنے والے ہیں۔

البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ کے سربراہ مچ سلویسٹر نے کہا ہے کہ کیوبیک میں پارتی کیوبیکوا کی کامیابی سے البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کو یہ احساس ہوا ہے کہ وہ اکیلی نہیں۔

مچ سلویسٹر کے مطابق کیوبیک بھی اسی راستے پر آگے بڑھ رہا ہے اور امید ہے کہ اس انتخابی نتیجے سے یہ بحث شروع ہوگی کہ اوٹاوا سے صرف البرٹا ہی ناخوش نہیں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ایسی شکایات موجود ہیں۔

کیوبیک کے صوبائی انتخابات میں پارتی کیوبیکوا نے 127 میں سے 59 نشستیں حاصل کیں اور حکومت بنانے میں کامیاب رہی، تاہم اسے واضح اکثریت کے لیے درکار 64 نشستیں نہ مل سکیں۔ جماعت نے تقریباً 28 فیصد مقبول ووٹ حاصل کیے۔

پارتی کیوبیکوا کے رہنما پال سینٹ پیئر پلامون نے مستقبل میں کیوبیک کی آزادی کے لیے ایک اور ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر موجود رہنے تک ایسا ریفرنڈم نہیں کرایا جائے گا۔

البرٹا یونیورسٹی کے سیاسی امور کے ماہر فریڈرک بوئیلی کے مطابق کیوبیک کی علیحدگی کی تحریک بنیادی طور پر زبان، ثقافت اور فرانسیسی شناخت کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ البرٹا میں علیحدگی کے جذبات میں معاشی شکایات اور وفاقی حکومت سے عدم اطمینان زیادہ نمایاں ہے۔

سابق البرٹا وزیر اعلیٰ جیسن کینی نے کہا کہ بعض علیحدگی پسند کیوبیک کے انتخابی نتائج سے خود کو تقویت ملنے کا احساس کرسکتے ہیں، تاہم ان کے مطابق پارتی کیوبیکوا کی کامیابی کو نئے آزادی ریفرنڈم کی حمایت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جیسن کینی نے کہا کہ پارتی کیوبیکوا نے 27.5 فیصد ووٹ کے ساتھ اقلیتی حکومت بنائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رائے شماریوں کے مطابق کیوبیک کے 75 سے 80 فیصد افراد دوبارہ علیحدگی کے ریفرنڈم کے خواہاں نہیں۔

سابق وفاقی رکن پارلیمنٹ ڈیمین کیورک، جو البرٹا کی علیحدگی کے مخالف ہیں، نے کہا کہ صوبے میں بہت سے لوگ کیوبیک کے انتخابی نتائج کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں اور ملک کے اتحاد کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مچ سلویسٹر نے کہا کہ کیوبیک میں ہونیوالی پیش رفت البرٹا کی علیحدگی کی مہم کی سمت تبدیل نہیں کریگی، تاہم ان کے بقول وفاق میں کسی دوسرے صوبے کا اوٹاوا سے ناخوش ہونا علیحدگی پسند تحریک کیلئے اہم علامتی فائدہ ہوسکتا ہے۔البرٹا میں علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کا سوال پہلے ہی منظور کیا جاچکا ہے اور متعلقہ تحریک آئینی و جمہوری طریقہ کار کے تحت عوامی رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔