کینیڈا میں ذہنی مریضوں کو طبی معاونت سے موت دینے پر فیصلہ کل ہوگا

اوٹاوا(کینیڈین پریس) کینیڈا کے وزیر انصاف شان فریزر نے کہا ہے کہ حکومت طبی معاونت سے موت کے آئندہ لائحہ عمل سے متعلق طویل انتظار کے بعد فیصلہ سامنے لانے کے قریب پہنچ گئی ہے، جس میں یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ صرف ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو طبی معاونت سے موت کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

محکمہ انصاف کے مطابق وزیر انصاف شان فریزر اور وزیر صحت مارجوری مشیل بدھ کو اوٹاوا میں دوپہر 12 بجے اس معاملے پر اعلان کریں گے۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب وفاقی حکومت پارلیمانی کمیٹی کی جون میں جاری سفارش کے بعد طبی معاونت سے موت کے آئندہ لائحہ عمل کی سمت واضح کرے گی۔ کمیٹی نے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے لیے اس طریقۂ کار کی توسیع کو غیر معینہ مدت تک روکنے کی سفارش کی تھی۔

شان فریزر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران حکومت کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان کے دفتر نے مختلف حلقوں اور متعلقہ افراد کی آرا حاصل کیں۔

طبی معاونت سے موت کی توسیع کے ناقدین نے پارلیمانی کمیٹی پر جانبداری کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے زیادہ تر ایسے ماہرین کو مدعو کیا جو ذہنی بیماری کی صورت میں طبی معاونت سے موت کی اجازت دینے کی توسیع کے مخالف تھے، جبکہ ذہنی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے والے اور اس سہولت تک رسائی کے خواہش مند افراد کو گواہی دینے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔

متعدد ماہرین نفسیات نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مناسب ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی نہ رکھنے والے افراد طبی معاونت سے موت کا انتخاب کرسکتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ کیا طبی ماہرین اس امر کا قابل اعتماد تعین کرسکتے ہیں کہ کسی شخص کا ذہنی مرض ناقابل علاج ہے۔

شان فریزر نے کہا کہ حکومت نے دونوں مؤقف رکھنے والے افراد کی آرا سنی ہیں اور مختلف نقطۂ نظر سامنے آئے ہیں۔

صرف ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے طبی معاونت سے موت کی عارضی پابندی 2021 سے نافذ ہے، جس میں کئی مرتبہ توسیع کی جاچکی ہے اور تازہ توسیع مارچ 2027 تک ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جون میں جاری معلومات کے مطابق حکومت صوبائی و علاقائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ اس معاملے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر کینیڈین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں بدھ کو قدامت پسند رکن پارلیمنٹ تمارا جانسن کی جانب سے پیش کردہ نجی رکن کی قانون سازی پر بھی ووٹنگ متوقع ہے، جس میں صرف ذہنی بیماری کو بنیادی بیماری رکھنے والے افراد کو طبی معاونت سے موت کے دائرے سے خارج رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کینیڈا میں طبی معاونت سے موت کا قانون پہلی مرتبہ 2016 میں منظور ہوا تھا، اس وقت اہلیت کے لیے موت کا متوقع طور پر قریب ہونا ضروری تھا۔ 2021 میں قانون میں ترمیم کے ذریعے ایسے افراد کو بھی دائرے میں شامل کیا گیا جنہیں سنگین اور ناقابل علاج بیماری یا معذوری کے باعث ناقابل برداشت تکلیف ہو، لیکن جن کی موت فوری طور پر متوقع نہ ہو۔