نیش وِل(خبر ایجنسیاں) امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت دینے کی ناکام کوشش کے بعد قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آگئی ہیں اور اسپتال میں زیر علاج رہتے ہوئے بات بھی کرنے لگی ہیں۔
کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو بتایا کہ ان کی موکلہ ہوش میں ہیں اور طبی نگہداشت حاصل کر رہی ہیں، تاہم ان کی صحت یابی کے امکانات ابھی واضح نہیں،انہیں مکمل صحت یابی کیلئےطویل عرصہ درکار ہوسکتا ہے۔
وکلا کے مطابق سزائے موت کی کوشش کے دوران کرسٹا پائیک کے بازوؤں کو شدید نقصان پہنچا اور وہ اب بھی اسپتال کے بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ذریعے بندھی ہوئی ہیں۔کرسٹا پائیک کو 1995ء میں اپنی ہم جماعت کولین سلیمر کو تشدد اور چاقو کے وار کرکے قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
30 ستمبر کو ٹینیسی حکام نے اسے مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی، تاہم پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دینے کے باوجود وہ ہلاک نہ ہوئیں۔ ان کے وکلا کے مطابق دوا کے باعث ان کے بازو جل گئے اور ان پر چھالے پڑ گئے۔
کرسٹا پائیک کو ناکام کوشش کے بعد ایمبولینس کے ذریعے نیش وِل کی جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور اتوار تک وہ بے ہوش اور مصنوعی تنفس پر تھیں۔
ایٹلانٹا میں بے ہوشی اور جراحی کے ماہر ڈاکٹر جوئل زیوٹ نے کہا کہ کرسٹا پائیک کا ہوش میں آنا اور مصنوعی تنفس سے ہٹ کر بات کرنے کے قابل ہونا بہتر صحت یابی کی امید پیدا کرتا ہے، تاہم مکمل صحت یابی کی صورت حال واضح ہونے میں کئی ہفتے یا کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرسٹا پائیک اب بھی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں اور انہیں مزید سنگین طبی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ٹینیسی محکمہ اصلاحات کے ترجمان نے بتایا کہ کرسٹا پائیک بدستور اسپتال میں زیر علاج ہیں، تاہم ان کی صحت سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔کرسٹا پائیک کے وکلا بدھ کو عدالت میں پیش ہوں گے جہاں وہ ناکام سزائے موت کی کوشش کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
وکلا نے عدالت سے ٹینیسی محکمہ اصلاحات کو 30 ستمبر کی سزائے موت کی کوشش سے متعلق شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دینے کی درخواست کی ہے، جس میں استعمال ہونے والی ادویات کے بیچ نمبرز، ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہیں۔
عدالت نے اس معاملے پر بدھ کی صبح سماعت مقرر کر رکھی ہے۔ کرسٹا پائیک کے وکلا نے ٹینیسی کے گورنر بل لی سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ان کی سزائے موت کو بغیر پیرول کے عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

