سیئٹل(خبر ایجنسیاں) امریکی ریاست واشنگٹن کے 30 سالہ شہری جیمز کوڈی برائنٹ پر کینیڈا کے ٹمبلر رج میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعے کے سلسلے میں بیرون ملک افراد کو قتل کرنے کی سازش کا الزام عائد کردیا گیا۔
سیئٹل میں پریس کانفرنس کے دوران قائم مقام امریکی اٹارنی نیل فلائیڈ نے بتایا کہ جیمز کوڈی برائنٹ پر بیرون ملک افراد کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق جیمز کوڈی برائنٹ نے مبینہ طور پر ٹمبلر رج فائرنگ کی مرکزی ملزمہ جیسی وان روٹسیلار کو قتل کی کارروائی سے قبل مدد اور رقم فراہم کی جبکہ اسے مشورے بھی دیے۔
18 سالہ جیسی وان روٹسیلار نے فروری میں کینیڈا کی تاریخ کے بدترین فائرنگ کے واقعات میں سے ایک میں اپنی والدہ اور کم عمر بھائی کو ان کے گھر میں قتل کیا، جس کے بعد وہ ٹمبلر رج سیکنڈری اسکول پہنچی۔حکام کے مطابق ملزمہ نے اسکول میں 5 طلبہ اور ایک استاد کو قتل کیا، جس کے بعد خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کرلیا تھا۔
امریکی حکام کی جانب سے جیمز کوڈی برائنٹ کے خلاف کارروائی ٹمبلر رج فائرنگ کے واقعے میں ممکنہ معاونت اور اس واقعے سے قبل ملزمہ کے ساتھ اس کے مبینہ رابطوں کی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔

