سیئول(رائٹرز) جنوبی کوریا کے مالیاتی شعبے میں سائبر حملوں کے سلسلے کے بعد حفاظتی نظام پر سوالات اٹھنے لگے، 7 مالیاتی اداروں کے 67 ہزار سے زائد صارفین کا ڈیٹا متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حالیہ سائبر حملوں میں ملک کے 3 بڑے تجارتی بینکوں شنہان بینک، کے بی کوک من بینک اور ہانا بینک سمیت بوسان بینک، یے گارام سیونگز بینک، ویلکم سیونگز بینک اور ہنڈائی کیپیٹل کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ صارفین کی معلومات میں نام، رابطے کی تفصیلات، رہائشی رجسٹریشن نمبر، سالانہ آمدنی اور قرض کی حد سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
حالیہ واقعات کے بعد جنوبی کوریا کے مالیاتی شعبے کے سائبر دفاعی نظام پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے جانے والے سائبر حملے موجودہ حفاظتی اقدامات کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے حکام نے بعض حملوں میں مصنوعی ذہانت کے جدید نظام کے استعمال کے شواہد ملنے کے بعد تحقیقات تیز کردی ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ آوروں نے کون سا مصنوعی ذہانت کا نظام استعمال کیا۔
صدر لی جے میونگ نے مالیاتی اداروں پر ہونے والے سائبر حملوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سائبر سیکیورٹی کے موجودہ طریقۂ کار کو جدید بنانے اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

